.

بن لادن کی نئی دستاویزات میں القاعدہ ایران تعلقات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے پاکستان میں بن لادن کے قتل کے وقت ان کے ٹھکانے سے حاصل کی گئی مزید دستاویزات عام استفادے کے لئے مشتہر کی ہیں۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی دستاویزات کی نئی قسط میں القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بن لادن کی رہائش گاہ سے ملنے والی دستاویزات میں القاعدہ اور ایران کے درمیان گہرے مراسم بتائے جاتے ہیں۔ ان دستاویزات کا کاتب القاعدہ کا کوئی اہم رہ نما ہے۔ ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ایران نے القاعدہ کو ہر قسم کی سہولت مہیا کی ہیں جن میں اسلحہ، رقوم اور لبنان میں قائم حزب اللہ کے ٹریننگ کیمپوں میں القاعدہ جنگجوؤں کو تربیت شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں القاعدہ نے سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں امریکی مفادات پر حملے کیے۔

القاعدہ جنگجوؤں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایران نے انہیں ویزے دیئے۔ کئی جنگجوؤں کو ایران میں پناہ دی گئی۔ القاعدہ کمانڈر ابو حفص الموریتانی نے 11ستمبر کے واقعے سے قبل اپنے کئی ساتھیوں کو ایران میں پناہ دلوانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی ایران کے خلاف کوئی جنگ نہیں تھی۔ دونوں میں سب سے بڑی قدر مشترکہ ’امریکا‘ تھا کیونکہ القاعدہ اور ایران دونوں امریکا کو اپنا بدترین دشمن خیال کرتے۔

ان دستاویزات میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادی کی شادی کی ایک ویڈیو بھی شامل ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ تقریب ایران میں منعقد کی گئی تھی۔

بعض دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان بعض امور میں اختلافات بھی پائے جاتے تھے۔ تاہم تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن نے اپنے ساتھیوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ایران کو دھمکیاں دینے سے اجتناب کریں۔ اپنے ایک سابقہ مکتوب میں اسامہ بن لادن نے ایران کو ’رقوم، افراد کی منتقلی اور رابطوں کے لیے ’شہ رگ‘ قرار دیا تھا۔ اختلافات کے باوجود ایران بھی القاعدہ کو بھرپور معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ جولائی 2011ء کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے القاعدہ کے لیے ’شہ رگ‘ سمجھے جانے والے ایران پر کئی کڑی پابندیاں عاید کی ہیں۔ ایران اور القاعدہ کے درمیان باہمی تعلقات کی مزید تفصیلات منظرعام پر آنے کا امکان ہے۔