ٹرمپ ایران کے معاملے پر چینی صدر پر دباؤ ڈالیں گے: امریکی عہدیدار

اندازہ ہے ٹرمپ اپنے دورہ چین کے اختتام کے بعد ایران کے بارے میں اپنا فیصلہ کریں گے: اسرائیلی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بدھ کو بیجنگ آمد کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ چین نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے ایران پر پہلے ہی دباؤ ڈالا ہے۔

امریکی اعلیٰ عہدیدار نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ ٹرمپ اپنی ملاقات کے دوران ایران کے حوالے سے چینی صدر پر دباؤ ڈالیں گے۔ یہ ویب سائٹ "پولیٹیکو" نے بیان کیا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی اندازوں کے مطابق ٹرمپ اپنے دورہ چین کے اختتام کے بعد ایران کے بارے میں اپنا فیصلہ کریں گے۔

اسرائیلی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی صدر کے بیجنگ کے دورے کے اختتام کے ساتھ تل ابیب میں تیاریوں کی سطح بلند کر دی جائے گی۔ یہ بیانات ٹرمپ کی بدھ کے روز بیجنگ آمد کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بین الاقوامی تجارت سے لے کر ایران میں جنگ اور تائیوان کے معاملے تک کئی چیلنجز پر مشتمل سربراہی ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔

توقع ہے ٹرمپ اور شی اگلے دو دنوں میں اپنی بات چیت کے دوران جنگ کے مسئلے پر تبادلہ خیال کریں گے لیکن امریکی صدر نے اس کردار کی اہمیت کو کم کر دیا ہے جو چین اس تنازعے کے حل میں ادا کر سکتا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ وہ آبنائے ہے جہاں سے عام حالات میں عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

انہوں نے بیجنگ روانگی سے قبل صحافیوں کو کہا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے حوالے سے چین سے کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم ایک یا دوسرے طریقے سے جیت جائیں گے، پرامن طور پر یا کسی اور طریقے سے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو یہ بھی کہا کہ سینئر امریکی اور چینی حکام نے گزشتہ ماہ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کسی بھی ملک کو اس خطے سے گزرنے کی فیس نہیں لگانی چاہیے۔ اس بیان کا کا مقصد سربراہی اجلاس سے قبل اس معاملے پر اتفاق رائے ظاہر کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں