لبنان سے ’اعلان جنگ‘ کرنے والے ملک کے طور پر نمٹیں گے:السبھان

حزب اللہ نے سعودیہ کے خلاف دہشت گردی کی ہر کارروائی میں ساتھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیجی امور ثامر السبھان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کسی صورت میں یہ بات قبول نہیں کرے گا کہ لبنان الریاض کے خلاف جنگ میں شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کی وجہ سے ہم لبنانی حکومت سے ’اعلان جنگ‘ کرنے والی حکومت کے طور پر نمٹیں گے۔

’العربیہ‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ثامر السبھان نے کہا کہ لبنانی حکومت نے جتنے بھی فیصلے کیے ھزب اللہ ان پر اثرانداز ہوئی۔

ثامر السبھان نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا جب لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری نے گذشتہ روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔

ثامر السبھان نے کہا کہ شاہ سلمان نے سعد حریری سے بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ حزب اللہ نے سعودی عرب کے خلاف جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت سعودی عرب کے خلاف برسر جنگ ملیشیا کے خطرات سے بہ خوبی آگاہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر مملکت نے کہا کہ حزب اللہ سعودی عرب کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی ہر کارروائی میں شامل ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو ’حزب الشیطان‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب لبنانی شیعہ ملیشیا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا۔

ثامر السبھان نے کہا کہ لبنانی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امن کے ساتھ ہے یا حزب اللہ کی دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو روکے گا۔ اب یہ فیصلہ لبنانیوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں یا دہشت گردوں کا۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ حزب اللہ سعودی نوجوانوں کو منشیات اسمگل کرنے کے ساتھ دہشت گردی کی تریبت فراہم کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں