شام سے بین الاقوامی اتحاد کا کُوچ جنیوا بات چیت میں پیش رفت سے مربوط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کی سرپرستی میں شام میں امن سے متعلق جنیوا مذاکرات میں پیش رفت سامنے نہیں آتی.. اُس وقت تک شام اور عراق میں شدت پسندوں کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد ان دونوں ممالک سے کوچ نہیں کرے گا۔

پیر کے روز پینٹاگون میں ایک پریس کانفرس کے دوران انہوں نے کہا کہ "محض عسکری پہلو سے توجہ کافی نہیں ، اس انارکی کے حوالے سے کچھ کیا جانا چاہیے"۔

امریکی میرینز کے سابق جنرل نے واضح کیا کہ بین الاقوامی اتحاد کا مشن داعش تنظیم پر قابو پانا اور شام کی جنگ کا ایک سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔

میٹس نے باور کرایا کہ کسی سفارتی حل کے لیے حالات تیار کیے جا رہے ہیں اور داعش تنظیم کے خلاف کامیابی اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچے گی جب شام کے لوگوں کے خود اپنے معاملات سنبھالنے کا امکان ہو جائے گا۔

ہفتے کے روز امریکا اور روس نے ایک مشترکہ مرکزی بیان میں اس امر پر اتفاق کا اعلان کیا تھا کہ شام کا "کوئی فوجی حل نہیں"۔ یہ اعلان ویتنام میں ایک علاقائی سربراہ اجلاس کے ضمن میں امریکی اور روسی صدور کی مختصر ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جانبین اس بات پر متفق ہیں کہ شام کے حوالے سے کسی بھی ممکمنہ تصادم کو روکنے کے واسطے عسکری آپشن کو کھلا رکھا جائے۔ ساتھ ہی متحارف فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی امن بات چیت میں شریک ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں