سابق کروشیئن کمانڈر نے عدالت میں زہر پی کر موت کو گلے لگا لیا
مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم کے مجرم جنرل سلوبودان پرالجک کو اپنا انجام نظر آ رہا تھا
بوسنیا کی جنگ کے دوران مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم کے مجرم سابق جنرل سلوبودان پرالجک اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران زہر پینے کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلوبودان پرالجک نے نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں اپنے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے دوران زہر پی لیا تھا۔
عالمی عدالت انصاف میں جب پرالجک کو جنگی جرائم کے ارتکاب پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے عدالت کے اندر ایک چھوٹی سی بوتل نکال کر اس کے اندر موجود محلول پی لیا۔ زہر پینے سے پہلے انھوں نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا۔ عدالت سے انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔
پرالجک کو سنہ 1992 سے 1995 کے دوران مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جنگی جرائم پر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے الزام میں 161 مشتبہ ملزمان کا ٹرائل جاری ہے، جن میں سے 90 کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
عدالت کے ترجمان نینڈ گولشوسکی نے کہا کہ پرالجک کو بھرپور طبی امداد مہیا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
-
بوسنیا: پوپ فرانسس کا دورہ، بین المذاہب امن کی اپیل
کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس ہفتے کے روز بوسنیا کا ایک دن کا دورہ ...
بين الاقوامى -
کراجزک کو سزا، بوسنیا میں قتل عام کا دردناک باب بند
امریکی محکمہ خارجہ نے بوسنیائی سربوں کے سابق لیڈر راڈووان کراجزک کو مسلمانوں کی ...
بين الاقوامى -
شام میں خونریزی روکی جائے،نیا بوسنیا نہ بننے دیا جائےنیوی پلے
معرۃ النعمان میں شامی فوج کی بمباری ،44 افراد ہلاک
مشرق وسطی