صہیونی ریاست نے القدس پر ’یو این‘ کی قراردادیں کیسے پامال کیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سنہ 1948ء میں ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کے بعد سے اب تک اقوام متحدہ کے فورم سے ایک درجن سے زاید قراردادیں منظور کی گئیں۔ان میں بیت المقدس کو خصوصی قانونی حیثیت کا حامل عالمی شہر قرار دیا گیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کردہ قراردادوں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے 29 نومبر 1947ء کو اسرائیلی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ یہ قرار داد 181 کہلائی۔ اس میں مقبوضہ بیت المقدس شہر کا خصوصی طور پرتذکرہ کیا گیا۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں موجود تمام مقدسات کے تحفظ کا مثالی طریقہ القدس کو عالمی حیثیت دینے میں مضمر ہے۔ اس قرارداد میں فلسطین کو ایک عبرانی اور ایک عرب فلسطینی ریاست میں تقسیم کرنے کی حمایت کی گئی جب کہ مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اطراف کے مقامات کو عالمی نگرانی میں رکھنے کی سفارش کی گئی۔

عالمی قانون کے ماہر ڈاکٹر ایمن سلامہ نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد 181 دراصل فلسطین پر برطانوی استبداد کے خاتمے کا اعلان ہے۔اس کے بعد فلسطین کو تین خطوں مین تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلا حصہ فلسطینی مملکت جسے عرب ریاست قرار دیا گیا۔ یہ مغربی الجلیل، عکا، دریائے اردن کے مغربی کنارے، جنوبی ساحل سے شمال میں اسدود شہر اور جنوب میں رفح سے مصر سے متصل صحرائی پٹی پر مشتمل تھی۔ دوسرا حصہ یہودی یا عبرانی ریاست کے لیے مختص کیا گیا۔ عبرانی ریاست میں ساحلی شہر حیفا سے جنوبی تل ابیب، مشرقی الجلیل، بحیرہ طبریا، جزیرہ النقب اور ایلات پر مشتمل قرار پائی جب کہ بیت لحم، صابہ اور مقبوضہ بیت المقدس پر مشتمل علاقوں کو عالمی نگرانی میں دینے کی سفارش کی گئی۔

سنہ 1948ء کی جنگ میں اسرائیل نے قرارداد 181 کی مخالفت کرتے ہوئے مغربی بیت المقدس پرغاصبانہ تسلط جمالیا اور اسے صہیونی ریاست کا حصہ بنا دیا جب کہ مشرقی بیت المقدس پر سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا گیا۔

اکیس مئی 1968ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے فوجی طاقت کے ذریعے قائم کردہ تسلط کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے عالمی قراردادوں کی پاسداری نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

سلامتی کونسل نے بیت المقدس کی حیثیت میں قانونی، انتظامی اور تمام دیگر نوعیت کے اقدامات کو باطل قرار دیا۔ قرارداد میں صہیونی ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ القدس کے اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کے حوالے سے کیے گئے تمام اقدامات کو منسوخ کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 3 جولائی 1969ء کو قرارداد 267 منظور کی۔ اس قرارداد میں 1968ء میں منظور کردہ قرارداد 252 میں پیش کیے گئے مطالبات کو دہرایا گیا۔۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے مشرقی بیت المقدس میں کئے گئے تمام اقدامات ختم کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل نے اسرائیل پر واضح کیا کہ اگر اس نے القدس کے حوالے سے مطالبات پرعمل درآمد نہ کیا تو تل ابیب کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

قرارداد 446 بیس مارچ 1979ء کو منظور کی گئی۔اس میں واضح کیا گیا کہ سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے عرب علاقوں اور فلسطینی شہروں میں یہودی آباد کاری کو غیرقانونی ہے اس میں اسرائیل سے جنیوا معاہدے مجریہ 1949ء پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام غیرقانونی اقدامات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یکم مارچ 1980ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس میں سنہ 1980ء کے اوائل میں اسرائیلی کنیسٹ کے ایک متنازع قانون کی شدید مذمت کی گئی۔ اس قانون میں اسرائیل نے متحدہ القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا۔ قرارداد میں القدس کے بارے میں اسرائیلی قانون کو عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل اس قانون کو تسلیم نہیں کرتی۔اس میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ القدس شہر میں قائم اپنے سفارتی مشن وہاں سے ہٹا دیں۔

ڈاکٹر ایمن سلامہ کہتے ہیں کہ لاطینی امریکا کے ملک کوسٹاریکا اور بعض دوسرے ممالک نے القدس میں اپنے سفارتی مشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کے بعد انھوں نے اپنے سفارتی مشن تل ابیب منتقل کردیے تھے۔

قرارداد 1322 مجریہ 2000ء

سلامتی کونسل نے 7 اکتوبر 2000ء کو قرارداد 1322 منظور کی۔ اس قرارداد میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ بیت المقدس میں مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس قرارداد میں حرم قدسی کے حوالے سے اسرائیل کے اشتعال انگیز اقدامات کی مذمت کی گئی اور فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے اندھا دھند استعمال کومسترد کردیا گیا۔ قرارداد میں انتفاضہ القدس کو کچلنے کے لیے فلسطینیوں پر اندھا دھند تشدد اور ارئیل شیرون کی مسلح دستوں کے ہمراہ حرم قدسی میں داخلے کو اشتعال انگیزی قرار داد گیا۔

قرارداد 2334 مجریہ 2016ء

یہ قرارداد گذشتہ برس 23 دسمبر کو منظور کی گئی۔ اس میں فلسطین میں یہودی آباد کاری کی شدید مذمت کی گئی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مشرقی بیت المقدس سمیت 1967ء کی جنگ مں قبضے میں لیے گئے فلسطینی شہروں میں غیرقانونی بستیوں کی تعمیر روک دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں