ایرانی رجیم کے’کل پرزوں‘ کی باہمی کشمکش، خامنہ ای بھی کود پڑے!
سپریم لیڈر کی حسن روحانی، احمدی نژاد کو ہوش کے ناخن لینے کی تلقین
ایران میں خمینی رجیم کے اہم کل پرزے اور ریاست کے دست وبازو سمجھے جانے والے لیڈروں کے درمیان جاری محاذ آرائی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی کود پڑے ہیں۔ انہوں نے موجودہ صدر حسن روحانی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان دونوں پر خامنہ ای کی گرج برس کا اصل محرک موجودہ جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاری جانی اور سپریم لیڈر کی مقرب پارلیمنٹ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔
کل بدھ کو اپنے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’جن لوگوں کے ہاتھ میں کل امور مملکت تھے یا آج وہ اقتدار پر ہیں، انہیں اپوزیشن اور مخالفین کا کردار ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں‘۔ خامنہ ای کےاس بیان سے ان کا اشارہ واضح طور پر سابق صدر محمود احمدی نژاد اور موجودہ صدر حسن روحانی کی جانب تھا۔ یہ دونوں شخصیات ایران میں فیصلہ ساز شخصیات اور خامنہ ای کے مقرب اداروں بالخصوص جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق آملی لاری جانی کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
خامنہ ای نے خبردار کیا کہ ریاست کی اہم شخصیات دشمن کے مفادات کے لیے کام کرنے سے باز رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم میں مایوسی پھیلانے، ایک دوسرے پر دشنام طرازی کرنے، جھوٹی باتیں اور افواہیں پھیلانے جیسے جملہ معاندانہ اور دشمنانہ اقدامات سے گریز کیا جائے۔ اور ایک دوسرے کی کھینچا تانی بند کی جائے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم تنقید سے منع نہیں کرتے، مگر تنقید ذمہ دارانہ اور منصفانہ ہونی چاہیے نہ کہ الزامات در الزامات لگا کر ریاستی اداروں اور شخصیات کو بدنام کیا جائے۔ ایسے عناصر کو سوچے سمجھے بغیر الزامات کی سیاست پر چل رہےہیں انہیں قوم میں مایوسی پھیلانے کا کوئی حق نہیں۔ قوم ایسے عناصر سے جواب طلبی کرے گی۔
خیال رہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے گذشتہ سوموار کو طلباء کے اجتماع سے خطاب میں جوڈیشل کونسل کے سربراہ آملی لاری جانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے موجودہ صدر حسن روحانی کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بجٹ اور معیشت کو تقسیم کرکے قیمتوں میں اضافہ کرکے چار کروڑ ایرانیوں کو سبسڈی سے محروم کر رہے ہیں۔
ایران کی سرکردہ شخصیات کے درمیان جاری محاذ آرائی نے بڑے بڑوں کے کئی اہم راز بھی فاش کیے ہیں۔ سابق صدر احمدی نژاد نے جوڈیشل کونسل کے سربراہ اور ان کے خاندان پر قومی وسائل کی لوٹ مار کا الزام عاید کیا ہے جب کہ جواب میں انہوں نے احمدی نژاد کو پاگل قرار دیا ہے۔
سابق صدر صادق آملی لاری جانی، ان کے بھائیوں بالخصوص پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاری جانی اور ان کے معاون جواد لاری جانی اور فاضل لاری جانی پر زمینوں پر غاصبانہ قبضے، املاک اور جائیدادوں کی لوٹ مار کا الزام عاید کرتے ہیں۔
-
معیشت کی ہمہ جہتی کے دور میں ایران خام تیل سے مزید چمٹ گیا
ایسے میں جب کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنی آمدنی کے نئے ذرائع اپنانے اور تیل پر ...
مشرق وسطی -
احمدی نژاد ایرانی رجیم پر برس پڑے، عدلیہ کے جوابی الزامات
ایران کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے درمیان جاری رسا کشی روز بہ روز شدت اختیار ...
بين الاقوامى -
کیا سیستانی ایرانی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں ؟
عراق میں 2014 میں شیعہ مذہبی مرجع کی جانب سے داعش تنظیم کے خلاف لڑنے کے لیے ...
مشرق وسطی