مراکش : خواتین کو جنسی ہراسیت سے بچانے کے لیے گُلابی بسیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مراکش میں حکام آئندہ عرصے میں خواتین کے لیے گلابی رنگ کی بسوں کو مخصوص کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران خواتین کو ہراسیت کے واقعات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ البتہ مراکشی عوام کی جانب سے اس حوالے سے مِلا جُلا ردِّ عمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک اس اقدام سے خواتین کے خلاف جنسی ہراسیت کے واقعات میں کمی آئے گی جب کہ بعض لوگوں نے اسے صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشرے میں مرد اور عورت کو علاحدہ کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

دارالحکومت رباط میں متعلقہ منصوبے پر غورکرنے والے حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس سلسلے میں بعض ترقی یافتہ ممالک میں تجربہ کیا جا چکا ہے۔ ٹوکیو میں بلدیہ کی جانب سے رَش کے اوقات میں میٹرو میں صرف خواتین کے لیے بوگیاں مختص کی گئیں تا کہ معاشرے میں صنفِ نازک کو ہراسیت اور اس کے نتیجے میں درپیش ذہنی کوفت اور اذیت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مراکش کے دارالحکومت رباط کے میئر محمد صديقی نے دو ہفتے قبل انکشاف کیا تھا کہ وہ مستقبل میں خواتین کے لیے بسوں کومختص کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد بسوں میں خواتین کے خلاف تشدّد اور ہراسیت کے واقعات کی روک تھام ہے۔ تاہم میئر کی تجویز کو بائیں بازو اور لبرل جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں دونوں جنسوں کے درمیان یہ امتیاز درحقیقت دیگر عمومی شعبوں میں بھی مرد اور عورت کو علاحدہ کرنے کی راہ ہموار کر دے گا۔ دوسری جانب قدامت پسند مذہبی حلقوں نے اسے ایک مثبت آئیڈیا قرار دیا جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے عام ذرائع میں خواتین کو ہراسیت سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں