.

امریکا شام کی وحدت کو برقرار رکھنا نہیں چاہتا: روس

روس ایران سے جوہری معاہدے میں امریکا کی کسی ترمیم کے لیے کوششوں کی حمایت نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ "واشنگٹن شام کی علاقائی وحدت کو برقرار رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا"۔

پیر کے روز ماسکو میں سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "امریکا شام میں اُن لوگوں کی مدد کر رہا ہے جو حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں"۔ لاروف نے خبردار کیا کہ "ایک ایسا زون قائم کرنا جہاں شام میں امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کا کنٹرول ہو ، اس کا نتیجہ ملک کی تقسیم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے"۔

روسی وزیر خارجہ نے ماسکو کی جانب سے یہ امید ظاہر کی ہے کہ سُوچی کے مقام پر مقررہ "شامی کانفرنس برائے قومی مکالمہ" شام میں تصفیے کو مؤثر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کو متحرک کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ روس سُوچی کانفرنس میں شامی اپوزیشن اور قبائل کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دے گا۔

دوسری جانب لاؤروف نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ترکی شام کے صوبے اِدلِب میں جلد نگرانی کے چیک پوائنٹس قائم کرنے میں مدد دے گا۔

روس امریکا کی حمایت نہیں کرے گا

روسی وزیر خارجہ نےکہا کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے میں ترمیم کے لیے کوششوں کی حمایت نہیں کرے گا۔انھوں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ امریکا جو کچھ کرنے کی کوشش کررہا ہے، روس اس کی ہرگز بھی تائید نہیں کرے گا۔( ایران سے طے شدہ جوہری) سمجھوتے کے الفاظ میں تبدیلی اور اس میں نئی چیزوں کی شمولیت کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہوگی‘‘۔

انھوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ روس ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرے گا۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سمجھوتے کا خاتمہ شمالی کوریا سے مذاکرات کے عمل میں اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔

لاروف نے کہا کہ ’’ اگر اس ڈیل کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور ایران سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی ذمے داریوں کو پورا کرتے رہیں یا پھر آپ پر دوبارہ پابندیاں عاید کردی جائیں گی تو پھر آپ کو شمالی کوریا کو اس کی اوقات میں رکھنا ہوگا‘‘۔

’’ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو پھر ان پر عاید پابندیوں کو ختم کردیا جائے گا ۔ وہ (پیانگ یانگ) اس سے دستبردار ہوجائے گا لیکن کوئی بھی شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کو ختم نہیں کرے گا‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

روسی وزیر خارجہ کی اس گفتگو سے چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ آخری مرتبہ ایران کے خلاف جوہری پروگرام سے متعلق عاید کردہ پابندیوں کو ختم کریں گے تا کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کو جولائی 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری ڈیل میں پائے جانے والے خوف ناک اسقام کو درست کرنے کا ایک موقع مل سکے ۔