.

سعودی عرب : کرپشن پر گرفتار افراد سے 107 ارب ڈالرز کے اثاثے وصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ بدعنوانیوں کے الزامات میں حراست میں لیے گئے افراد سے تحقیقات قریب قریب مکمل ہوچکی ہے ۔حکومت کے ان سے تصفیے طے پاگئے ہیں اور انھوں نے 400 ارب ریال ( 107 ارب ڈالرز) سے زیادہ کے اثاثے واپس کردیے ہیں یا ان کی واپسی سے اتفاق کیا ہے۔

اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ کل 381 افراد کو بدعنوانیوں اور سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر نے تصفیے سے اتفاق کیا ہے۔البتہ 56 افراد ابھی تک زیر حراست ہیں اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد نے رئیل اسٹیٹ ، کمپنیوں ، سکیورٹیز اور نقد رقوم کی شکل میں اپنے اثاثے حکومت کے حوالے کردیے ہیں اور ان تمام کی مالیت 400 ارب ریال سے زیادہ بنتی ہے۔

قبل ازیں سعودی حکام نے دارالحکومت الریاض میں واقع ہوٹل رٹز کارلٹن میں زیر حراست تمام افراد کو معاملات طے پاجانے کے بعد رہا کرنے کا ا علان کیا تھا۔اس ہوٹل کو بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتار افراد سے تفتیش کے لیے تحقیقاتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔