.

قطر کے ایک بڑے وفد کے دورہ واشنگٹن کا کیا مقصد ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک وفد وہائٹ ہاؤس میں بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچا ہے۔ قطری وزیر خارجہ کی قیادت میں آنے والے وفد میں وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے علاوہ دیگر عہدے دار بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق بات چیت میں توجہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان تجارت اور تعاون پر مرکوز ہو گی۔

قطری وفد کا یہ دورہ ایسے وقت میں امریکا کو مطمئن کرنے کی کوششوں کا حصّہ ہے جب کہ دوحہ کو خلیجی ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمس میٹس نے ملاقات کے دوران قطری خلیجی اختلاف کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ "خلیج میں تنازع اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور امریکا کی تشویش پہلے کی طرح باقی ہے۔ متعلقہ فریقوں اور امریکا پر اس تنازع کے اقتصادی اور عسکری طور پر براہ راست منفی اثرات پڑے ہیں"۔

ادھر امریکی وزارت خزانہ کے سابق عہدے دار جوناتھن شینزر کا کہنا ہے کہ "ہم نہیں جانتے کہ آیا قطر مفاہمت کی شرائط میں کامیاب ہوا یا نہیں۔ لیکن اگر قطر نے واقعتا امریکا کے مطالبات پر عمل درامد کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے مطالبات کو بھی پورا کر دیا۔ البتہ دوحہ کی جانب سے خلیجی ممالک کے مطالبات کو مسترد کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ اس نے امریکا کے مطالبات کو بھی مسترد کر دیا ہے"۔

قطر اس بات کی امید کر رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے تعاون کے نتیجے میں واشنگٹن بائیکاٹ کرنے والے خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل ہو جائے گا۔

شینزر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے لیےfrienemies (یعنی ایک ہی وقت میں دوست اور دشمن کی صفات رکھنے والے) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ شینزر کے مطابق امریکا کو چاہیّے کہ قطر پر مزید دباؤ ڈالے اس لیے کہ العدید کا امریکی اڈہ دوحہ کے اہمیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں عرب خلیجی ممالک کے انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینئر تجزیہ کار حسین ابش نے باور کرایا ہے کہ "بائیکاٹ کی صورت حال میں قطر کے ہاتھ میں موجود واحد کارڈ واشنگٹن ہے"۔ حسین ابش کے مطابق "بائیکاٹ کا موضوع ان کے ایجنڈے پر موجود واحد موضوع ہے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ تنازع کا حل ان کے مفاد میں نہیں۔ وہ واحد چیز جو قطر کی مدد کر سکتی ہے اور اس کے حق میں جا سکتی ہے وہ امریکی دباؤ ہے"۔