فرانسیسی عدالت میں نومسلمہ خاتون کے پروفیسر طارق رمضان کے خلاف سنگین الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

مصر کی کالعدم دینی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے پروفیسر طارق رمضان ان دنوں سخت مسائل سے دوچار ہیں اور ان کی ’’عزت سادات‘‘ بری طرح داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ وہ دو عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پیرس کی ایک جیل میں بند ہیں اور ان کے خلاف اس مقدمے کی ابتدائی سماعت کی جارہی ہے جس کے دوران میں ایک نومسلمہ فرانسیسی عورت نے ان کے خلاف سنگین نوعیت الزامات عاید کیے ہیں ۔

پروفیسر طارق رمضان کے خلاف جمعہ کو عصمت ریزی اور عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے ، جنسی تشدد اور ان سے زبردستی بوس وکنار پر فرد الزام عاید کی گئی تھی۔ انھوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے تین ججوں پر مشتمل عدالت سے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران میں ضمانت پر رہا کرنے کی بھی درخواست دائر کی ہے۔البتہ وہ اس درخواست پر اسی ہفتے کسی فیصلے تک جیل ہی میں بند رہیں گے۔

ان کے خلاف مذکورہ الزامات پر مبنی ایک درخواست تو اکتوبر 2017ء میں انسانی حقوق کی علمبردار ہندہ عیاری نے دائر کی تھی۔ ایک اور فرانسیسی عورت نے بھی اس جیسی ایک درخواست دائر کی تھی ۔ بعض فرانسیسی اخبارات نے اس کی شناخت ’’ کرسٹیلی‘‘ کے نام سے کی ہے۔ اس نے عدالت میں کوئی ساڑھے تین گھنٹے پر محیط اپنا بیان قلم بند کرایا ہے۔اس موقع پر طارق رمضان کے وکلاء یاسین بوذر اور جولی گرینیر اور متاثرہ عورت کا وکیل ایرک موریان بھی موجود تھے۔

قبل ازیں فرانسیسی حکام نے پروفیسر طارق رمضان کے سینٹ ڈینس میں واقع دفتر اور فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد پر واقع ہاؤتے سیووئی میں ان کی اقامت گاہ ایک مکان میں تلاشی کی کارروائی کی ہے۔

اس 45 سال عورت نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ طارق رمضان نے انھیں لیون میں ہلٹن ہوٹل کی بار میں ملاقات کا وقت دیا تھا۔وہ اکتوبر 2009ء میں وہاں ایک کانفرنس کے سلسلے میں آئے تھے‘‘۔ ان کے اور اس فرانسیسی نومسلمہ کے درمیان31 دسمبر 2008ء سے مراسلت جاری تھی اور وہ ان سے مشاورت لیتی رہتی تھی۔

ان کے درمیان تعلقات بتدریج تبدیل ہوتے گئے کیونکہ طارق رمضان اپنی بیوی سے الگ تھلگ رہ رہے تھے اور انھوں نے اس عورت سے مذہبی شادی کا وعدہ کیا تھا۔اس دوران میں انھوں نے اسکائپ کے ذریعے عارضی نکاح کا بھی وعدہ کیا تھا۔تاہم لیون میں ان کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی جہاں پروفیسر صاحب اسلامو فوبیا اور فلسطین کے موضوع پر ایک کانفرنس میں شریک تھے۔

اس عورت نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ ’’ دس منٹ کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا کہ ہم یہاں نہیں رُک سکتے کیونکہ ہر کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے ۔میں ایک مشہور آدمی ہوں۔استقبالیے پر موجود مغربین مجھے جانتا ہے اور وہ مسلسل مجھے تکتا جارہا ہے‘‘۔ پھر طارق رمضان سیڑھیوں کے ذریعے اس عورت کے کمرے میں چلے گئے ۔یہ عورت اس وقت ایک کار حادثے میں زخمی ہونے کی وجہ سے بیساکھیوں کے سہارے چلتی تھی ۔اس لیے وہ لفٹ کے ذریعے کمرے میں گئی تھی۔

اس عورت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ جونھی میں کمرے میں داخل ہوئی تو یہ شخص مجھ پر حملہ آور ہوگیا۔اس نے تھپڑ رسید کیا۔مجھے بازوؤں میں بھینچ لیا،بوس وکنار کرنے لگا۔یہ مجھے بالوں سے پکڑ کر کمرے میں اِدھر اُدھر کھینچتا رہا تھا تاکہ مجھے باتھ ٹب میں پھینک سکے اور مجھ پر پیشاب کرسکے‘‘۔اس نے اپنے شکایت میں کہا ہے کہ وہ صبح کے وقت ہی وہاں سے نکل سکی تھی۔

عدالت میں پروفیسر طارق رمضان نے عورت کی عصمت ریزی اور جنسی حملے کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی اور کہا کہ صرف بوس وکنار ہوا تھا اور انھوں نے اس کی صحت سے انکار نہیں۔ تاہم درخواست گزار عورت نے اپنے بیان کے حق میں کچھ اور بھی تفصیل بیان کی لیکن آکسفورد کے پروفیسر نے قلم بند کیے گئے بیان پر دست خط سے انکار کردیا ۔

واضح رہے کہ طارق رمضان آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں معاصر اسلامی مطالعات کے پروفیسر تھے اور وہ 7 نومبر 2017ء کو ایک باہمی سمجھوتے کے تحت عارضی رخصت پر چلے گئے تھے۔آکسفورڈ میں دینیات کی یہ چیئر قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کے نام پر قائم ہے اور قطر ہی اس کے لیے فنڈنگ مہیا کرتا ہے لیکن اس نے حال ہی میں کہا ہے کہ طارق رمضان امارات میں آنے کی زحمت گوارا نہ کریں ،انھیں خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں