.

شام میں ہلاک روسی پائیلٹ کی آخری رسوم میں ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں ہزاروں افراد نے شام میں ہلاک ہونے والے روسی پائیلٹ کی آخری رسوم میں شرکت کی ہے۔اس روسی پائیلٹ کے طیارے کو شامی باغیوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں گذشتہ ہفتے کے روز مار گرایا تھا اور اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

شامی باغیوں نے اس روسی پائیلٹ میجر رومن فیلپوف کو ایک جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فیلپوف لڑاکا طیارے کو آگ لگنے کے بعد اس میں سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔وہ القاعدہ سےو ابستہ جنگجوؤں کا اپنے ہتھیاروں سے مقابلہ کرتا رہا تھا اور جب انھوں نے گھیرا تنگ کردیا تو اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ایک دستی بم کے دھماکے سے خود کو اڑا دیا تھا۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اس پائیلٹ کو بعد از مرگ ملک کے سب سے اعلیٰ اعزاز ’’ روسی ہیرو‘‘ سے نواز ہے۔اس کی لاش ترکی کے راستے روس پہنچائی گئی تھی۔

روس کے جنوبی مغربی شہر ورونیز میں جمعرات کو تیس ہزار سے زیادہ افراد نے اس کی آخری رسوم میں شرکت کی ہے۔یہ پائیلٹ شادی شدہ تھا اور اس کی چار سال کی ایک بیٹی ہے۔