سوڈانی صدر عمرالبشیر نے طاقتور انٹیلی جنس چیف کو چلتا کیا
سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے اپنے طاقتور انٹیلی جنس چیف محمد عطا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ صاقح عبداللہ محمد صالح کو نیشنل انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروس ( این آئی ایس ایس ) کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
صلاح صالح اس سے قبل بھی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ان کی جگہ 2009ء میں محمد عطا کو ملک کا انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا۔
سوڈانی صدر نے اتوار کو ایسے وقت میں محمد عطا کو عہدے سے ہٹایا ہے جب این آئی ایس ایس ملک میں مہنگائی اور بالخصوص خوراک کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے کارکنان کی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے کریک ڈاؤن کررہی ہے۔
واضح رہے کہ سوڈانی حکومت نے دسمبر میں خود گندم کی درآمد بند کردی تھی اور نجی کمپنیوں کو گندم درآمد کرنے کی اجازت د ے دی ہے ۔گندم کی منڈی میں طلب کے مقابلے میں رسد میں کمی کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ دُگنا تک بڑھ گئی ہے جس کے بعد نانبائیوں نے بھی روٹی کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
آٹے کی قیمت میں اضافے کے خلاف جنوری کے اوائل سے سوڈان کے مختلف شہروں میں شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور مختلف میڈیا ذرائع کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت خرطو م میں مہنگائی کے خلاف بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں اور ان میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی ہے۔
این آئی ایس ایس کے ایجنٹوں اور پولیس خرطوم اور ملک کے دوسرے شہروں میں بزور طاقت ان مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور انھوں نے جنوری کے بعد سے احتجاجی تحریک کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حزب اختلاف کے گروپوں کے متعدد لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے۔