.

بھارت اور ایران کے درمیان چا بہار بندرگاہ کے کنٹرول سمیت 9 معاہدے

بھارت چا بہار میں 18 ماہ کے لیے ایک کثیر المقاصد کنٹینر ٹرمینل چلانے میں ایران کو مدد دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سکیورٹی ، تجارت ، اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مفید اور تعمیری بات چیت کی ہے اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دُہرے ٹیکسوں سے بچنے سمیت مختلف شعبوں میں نو معاہدے طے پائے ہیں۔

ایرانی صدر نے میزبان وزیراعظم سے علاقائی صورت حال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔نریندر مودی نے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ ایرانی صدر کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان روابط بڑھانے سمیت دوطرفہ تعاون میں مزید گہرائی کی خواہش کا مظہر ہے‘‘۔

انھوں نے صدر حسن روحانی سے جامع مذاکرات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دہشت گردی سے درپیش خطرے ، منشیات کی اسمگلنگ اور دوسرے چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ ’’ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ علاقائی تنازعات سفارت کاری اور سیاسی اقدامات کے ذریعے طے کیے جانے چاہییں۔

دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے معاہدوں میں سے ایک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایک دوسرے کے شہریوں کی بے دخلی سے متعلق ہے۔انھوں نے اس پر 2008ء سے عمل درآمد سے اتفاق کیا ہے۔

چا بہار بندر گاہ کا کنٹرول

ایک معاہدے کے تحت ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل اپنی چا بہار بندر گاہ کا جزوی کنٹرول بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔معاہدے کے مطابق بھارت ایران کو چابہار میں 18 ماہ کے لیے ایک کثیر المقاصد کنٹینر ٹرمینل چلانے میں مدد دے گا۔وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک چا بہار کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی کے لیے اقتصادی تعاون ، علاقائی روابط اور توانائی کی سکیورٹی میں اضافہ چاہتے ہیں۔

بھارت ، ایران اور افغانستان نے 2016ء میں چا بہار کی بندرگاہ کی ترقی کے لیے سہ فریقی راہداری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کا مقصد علاقے میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینا تھا۔

افغانستان

بھارتی وزیراعظم اور ایرانی صدر نے اپنی بات چیت میں جنگ زدہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششوں کو تیز کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔نریندر مودی نے بھارت کی جانب سے اس عزم کا ا عادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی ایک پُرامن ، محفوظ اور خوش حال ملک بننے کے لیے مدد کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے خطے کو دہشت گردی سے پاک بنانا چاہتے ہیں۔

بھارت کابل کی موجودہ حکومت کا سب سے بڑا حامی اور مدد گار ہے اور اس نے 2001ء میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کو دو ارب ڈالرز کی امداد دی ہے۔

بھارت نے 2016ء میں افغانستان کو تعلیم ، صحت اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کے لیے ایک ارب ڈالرز کی معاشی امداد دی تھی۔