.

فاتحِ اندلس طارق بن زیاد کے بارے میں الم ناک تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تاریخ میں اندلس کی فتح کے مرکزی کردار طارق بن زیاد کی شخصیت پراسرار پہلوؤں سے بھرپور ہے۔ ان کی ذاتی زندگی سے متعلق بہت سی کہانیاں اور داستانیں موجود ہیں۔

طارق کی شخصیت کے ساتھ ابتدائی طور پر جو کارنامہ مربوط ہوا وہ عربوں کا مملکت فرانکیا میں داخلے کا خواب پورا ہونا ہے۔ مسلمانوں نے آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل سے پندرھویں صدی عیسوی )1492ء) تک تقریبا آٹھ سو برس وہاں اپنی حکم رانی کا سکّہ چلایا۔

طارق بن زیاد کو اموی خلیفہ الولید بن عبدالملک کے دور میں مراکش میں موسی بن نصیر کی فوج کے ایک کمانڈر کے طور پر جانا گیا۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے سبب وہ جلد ہی نظروں میں آ گئے اور انہیں طنجہ شہر کا گورنر بنا دیا گیا۔

البتہ طارق کی شہرت کا بنیادی سبب اندلس اور اس کی فتح سے قبل نگرانی کی کارروائیاں ہیں۔ ان کے نام سے موسوم جبلِ طارق (جبرالٹر) آج بھی تاریخ کے اس عظیم سپہ سالار کی گواہی دیتا ہے۔

طارق بن زیاد 675ء / 55هـ میں الجزائر کے مغربی صوبے وہران میں پیدا ہوئے۔ زندگی کی 45 بہاریں دیکھنے کے بعد 720ء / 101هـ میں وفات پا گئے۔ طارق بن زیاد طویل قد و قامت کے مالک تھے۔ ان کی نسل سے متعلق مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی روایت ان کو افریقی بربر قبیلے سے جوڑتی ہے۔ دوسری روایت کے مطابق ان کا تعلق ایران کے صوبے ہمدان سے تھا۔ تیسری اور آخری روایت کہتی ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا تعلق یمن کے علاقے حضرموت سے تھا۔

طارق بن زیاد کے نسب کی طرح ان کی زندگی کا اختتام بھی پراسراریت کے پردوں میں دبا ہوا ہے۔ مشہور یہ ہے کہ طارق موسی بن نصیر کے ساتھ دمشق لوٹ آئے تھے جس کا سبب دونوں کے درمیان اختلاف تھا۔ آخرکار خلیفہ الولید بن عبدالملک نے دونوں کو معزول کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے آخری ایام طارق نے کسمپرسی میں گزارے بلکہ یہاں تک کہ انہیں مساجد کے باہر سوال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر اسے اموی سلطنت کے اس عظیم سپہ سالار کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی کہا جائے گا۔

موسی بن نصیر کے طارق بن زیاد کے ساتھ تعلقات شورش کا شکار رہے۔ موسی نے طارق کے ذریعے مراکش میں کامیابیاں سمیٹیں اور پھر طارق کو بلندی کی طرف جاتا ہوا دیکھ کر حسد محسوس کرنے لگا۔

بعد ازاں اس کہانی نے افسانوی صورت اختیار کر لی اور دونوں کے درمیان اختلاف کا سبب قیمتی پتھروں سے مرصع سونے کا ایک میز پوش قرار دیا جس کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا تھا۔ طارق نے جنگوں کے دوران اسے حاصل کیا تھا اور آخرکار وہ خلیفہ کے محل کی زینت بنا۔

طارق بن زیاد کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ انہوں نے اندلس کے ساحل پر پہنچ کر اپنے بحری بیڑوں کو آگ لگا دی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کی فوج کے سپاہی واپسی کے بارے میں نہ سوچیں۔ تاہم اکثر روایات کے مطابق یہ قصّہ درست نہیں ہے۔ علامہ ادریسی کی کتاب "نزهة المشتاق في اختراق الآفاق" کے سوا یہ بات کسی اور جگہ مذکور نہیں ہے۔ ادریسی کا دور فتح اندلس کے پانچ صدیوں بعد کا تھا۔

ان تمام امور کے باوجود طارق بن زیاد کا نام تاریخ میں امر ہو کر متعدد مقامات کے ساتھ منسوب ہو چکا ہے جن میں سرِفہرست جبلِ طارق ہے۔

سال 2012ء میں برطانیہ کے مرکزی بینک نے جبرالٹر کی حکومت کے لیے پانچ پاونڈ کا ایک کرنسی نوٹ جاری کیا جس پر طارق بن زیاد کی تصویر تھی۔