.

کیا عرب بائیکاٹ سے قطر ائیرویز کے لیے مسائل پیدا ہورہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی قومی فضائی کمپنی نے عرب ممالک کے بائیکاٹ کے نتیجے میں شدید مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود اپنی توسیع پسندی کے لیے جارحانہ پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے ۔ قطر ائیر ویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکر نے حال ہی میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں اعتراف کیا ہے کہ ان کی فضائی کمپنی کو اس سال خسارے کا سامنا ہوگا ۔انھوں نے چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کو اس کا سبب قرار دیا تھا۔

اکبر الباکر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال جون سے اپنی فضائی حدود سے قطری طیاروں کے گذرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کی وجہ سے انھیں بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترکی اور ایران کا لمبا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اس طرح ایندھن اور مرمت کی مد میں اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

قطر ائیر ویز کو ایک سال قبل ہی 22 فی صد خالص منافع حاصل ہوا تھا اور اس کی مالیت 54 کروڑ ڈالرز تھی اور اس کے سالانہ منافع کی شرح میں بھی 10 فی صد ہوا تھا لیکن اس سال اس کو یہ منافع تو حاصل نہیں ہوسکے گا بلکہ خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اکبر الباکر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ روٹس کے لمبا ہوجانے کے بعد ہم نے مرمت کی لاگت میں اضافہ کردیا ہے ، ہمارا زیادہ ایندھن خرچ ہوتا ہے۔اس لیے فضائی کمپنی کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ناکا بندی کی وجہ سے فضائی کمپنی کو اس سال خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی سرگرمیوں کو محدود کررہے ہیں اور سکڑ رہے ہیں‘‘۔

تاہم انھوں نے اس انٹرویو میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے کھو جانے کا حوالہ نہیں دیا تھا۔ان تینوں ممالک کے مسافر اب قطرائیرویز کے ذریعے مختصر یا طویل سفر نہیں کررہے ہیں اور ان کا بھی نقصان اس کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ نیز ان ممالک کی پروازیں قطر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا رُخ نہیں کررہی ہیں اور یوں اس خلیجی ریاست کو آمدن کے ایک ذریعے سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔

بوسٹن ، میسا چیوسٹس سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار کیتھ لیپور نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت ِقطر کے جنوری اور فروری 2018ء کے لیے سرکاری اعداد وشمار مشکل سے ہی سامنے آئیں گے۔تاہم قطر ائیر ویز جارحانہ انداز میں نئی حقیقت اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی کوشش کررہی ہے‘‘۔

انھوں نے ’کیپٹل اکنامکس‘ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر ائیر ویز کی پروازوں میں نومبر 2017ء میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 20 فی صد تک کمی واقع ہوئی تھی اور جون 2017ء میں بائیکاٹ کے آغاز کے بعد سیاحت کی مد میں 60 کروڑ ڈالرز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے یہ نشان دہی بھی کی ہے کہ قطر ائیر ویز نے گذشتہ ہفتے ائیربس اے 350-1000 حاصل کی ہے۔ طیارہ ساز ائیربس کا تیار کردہ یہ سب سے بڑا طیارہ ہے اور یہ اسی ماہ سے دوحہ ، لندن کے روٹ پر محو پرواز ہوجائے گا۔

چار عرب ممالک ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین نے گذشتہ سال جون سے قطر کے ساتھ زمینی ، فضائی اور سمندری راستے سے روابط بند کررکھے ہیں اور اس کا سیاسی ، سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کررکھا ہے۔ان چاروں ممالک نے قطر پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی مالی مدد کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قطر پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھا اور اس کی مذمت کی تھی۔