ملک کا صدر نہ ہوتا تو ایک تخلیق کار ہوتا : ولادیمر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادیمر پوتین کا کہنا ہے کہ اگر وہ ریاست کے صدر نہ ہوتے تو اس وقت کوئی تخلیقی کام انجام دے رہے ہوتے"۔

جمعے کے روز کیلننگراڈ شہر میں روسی میڈیا کے فورم کے دوران پوتین نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں گفتگو کی۔ روسی صدر نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح پابندی کے ساتھ ورزش کرتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ جب وہ رنجیدہ ہوتے ہیں تو اس وقت کیا کرتے ہیں، روسی صدر نے بتایا کہ "میں کام کرتا ہوں"۔

معلومات اور اعداد وشمار کے بڑے ذخیرے کو ذہن نشین رکھنے کے حوالے سے پوتین کا کہنا تھا کہ "جب آپ روزانہ یہ کام کرتے ہیں تو پھر کوئی دشواری نہیں ہوتی"۔

پوتین سے پوچھا گیا کہ کوئی ایسا مرکزی واقعہ ہے جو ان کے بس میں ہوتا تو وہ اسے تبدیل کر دیتے۔ اس کے جواب میں روسی صدر نے بنا کسی لمحے کی تاخیر کے کہا "سوویت یونین کا ٹوٹ جانا"۔

واضح رہے کہ روس میں 18 مارچ کو انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ سروے رپورٹوں کے مطابق اس بات کی توقع ہے کہ پوتین بآسانی کامیاب ہو جائیں گے۔

پوتین نے فورم کے دوران بتایا کہ وہ کئی سیاسی ، ثقافتی اور عوامی شخصیات کی سرگرمیوں کے پرستار ہیں۔

روسی صدر نے بتایا کہ ان کا کوئی ایسا خواب باقی نہیں جو پورا ہونے سے رہ گیا ہو۔ پوتین کا کہنا تھا کہ "میں چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک کامیاب ، طاقت ور ، مستحکم ، متوازن اور آگے کی جانب گامزن ہو۔ روس کی اصل طاقت اس کے عوام میں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں