چین کو روکنے امریکی فوج کی بڑی تعداد ویتنام پہنچ گئی
ویتنام کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بیڑا اور بڑی تعداد میں فوجیوں کو لے کر ویتنام کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا ہے۔ امریکی فوج کی آمد کا مقصد جنوبی چین میں سمندری حدود میں چین کی توسیع پسندی کی روک تھام کرنا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی بحری بیڑہ ’یو ایس ایس کارل فینسن‘ چھ ہزار فوجیوں کو لے کر ویتنام کے ساحلی شہر دانانگ میں پہنچا ہے۔ یہ ویتنام جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی فوج کی پہلی بڑی تعداد کی آمد ہے۔ اس سے قبل سنہ 1975ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں واقع اس ملک میں بڑی تعداد میں امریکی فوج موجود تھی۔
امریکی فوج کی بڑی تعداد ایک ایسے وقت میں ویت نام پہنچی ہے جب جزائر باراسیل اور سات دیگر صنعتی جزیروں میں چین اپنی فوج جمع کررہا ہے۔ یہ جزائر اس علاقے میں وقع ہیں جس پر ویتنام اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
چین اپنے جنوبی ساحلی علاقے سے متصل سمندر کے وسیع علاقے پرقبضے کے لیے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے چین نے پڑوسی ملکوں اور عالمی برادری کی تنقید کو بھی مسترد کردیا ہے۔
-
ایران کیخلاف جنگ سے پہلے مذاکرات کرنا ذمہ داری ہے: کیری
جنگ ویتنام کا سبق ہے کہ پہلے متبادل راستے دیکھے جائیں
بين الاقوامى -
ویتنام: پُل گرنے سے آٹھ افراد ہلاک، 30 زخمی
لقمہ اجل بننے والے ایک جنازے پر جا رہے تھے
بين الاقوامى -
شام میں شکست امریکا کی منتظر ہے: بشار الاسد
"امریکا کو شام میں ایک اور ویتنام سے مقابلہ کرنا ہو گا"
مشرق وسطی