عراقی شیعہ مبلغ کی ایران میں گرفتاری کے خلاف برطانیہ میں احتجاج

لندن میں ایرانی سفارت خانےپر مشتعل افراد کا دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی شیعہ مبلغ آیت اللہ حسین الشیرازی کی ایرانی فوج کےہاتھوں گرفتاری کے خلاف ان کے حامیوں نے عالمی سطح پر احتجاج شروع کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم ایرانی سفارت خانے پرمشتعل مظاہرین نے حملہ کرکے توڑپھوڑ کی۔ سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے افراد آیت اللہ حسین شیرازی کی گرفتاری کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

خبر رساں اداروں اور میڈیا کے مطابق عراقی شیعہ مبلغ کے پیروکاروں کی بڑی تعداد نے لندن میں قائم ایرانی سفارت خانے کی عمارت پر چڑھ کر ایرانی پرچم اتار پھینکا اور اس کی جگہ الشیرازی گروپ پر پرچم لہرا دیا۔

’بی بی سی‘ فارسی کی رپورٹ کے مشعل ھجوم نے مقامی وقت کے مطابق 4:20 پر لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ھلہ بول دیا۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کرنے والے ھجوم میں سے چار افراد سفارت خانے کے اندر داخل ہوگئے۔

لندن میں متعین ایرانی سفیر حمید بعیدی نژاد نے ایک بیان میں بتایا کہ مظاہرین ہاتھوں میں لاٹھیاں اور چاقو لے کر اندر داخل ہوئے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو لندن میں ایران کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں پر شدید احتجاج کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانوی سفیر نے لندن میں مظاہرین کی جانب سے سفارت خانے پر حملے پر باضابطہ طورپر معذرت کی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج اور اس پر دھاوے کو ‘دہشت گردانہ کارروائی‘ سے تعبیر کیا ہے۔

بی بی سی فارسی نے آیت اللہ الشیرازی کے مندوب قاسم الفہد کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر یلغار کرنے والے افراد آیت اللہ حسین شیرازی کے چاہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ حسین شیرازی کی تہران میں گرفتاری کے خلاف احتجاج ان کا حق ہے۔

ادھر عراق کے اندر بھی حسین شیرازی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بدھ کےروز شیعہ مبلغ آیت اللہ حسین الشیرازی کی قم میں گرفتاری پر عراق کے تاریخی شہر کربلا میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلوس نکالے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں