شام میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں: انتونیو گوٹیریس

خطہ سرد جنگ کی حالت میں ہے ،اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک عالمی قانون کے مطابق اقدام کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے شام میں ہونے والی پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ اس وقت سرد جنگ کی حالت میں ہےاور صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے کوئی ذرائع نہیں ۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز شام پر امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے فضائی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور شام میں کسی ایسی کارروائی سے گریز کریں جس سے صورت حال مزید خراب ہونے اور شامی عوام کے مسائل میں اضافے کا اندیشہ ہو۔

ان تینوں ممالک نے شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے اسدی فوج کے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد یہ کارروائی کی ہے۔اس کیمیائی حملے میں چالیس افرا د ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

انتو نیو گوٹیریس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے احتساب کا کوئی میکانزم ہی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ شام میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ فرانس نے انسانیت مخالف جرائم کے خلاف قراردادوں پر ویٹو کے حق کو محدود کرنے کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے۔

عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل نے آج الگ سے ایک بیان میں کہا کہ ’’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت ہے۔اس کے تباہ کن مضمرات ہوتے ہیں ‘‘۔انھوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدام کیا جائے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے ذمے داروں کے تعیّن کے لیے ایک تحقیقاتی پینل کے قیام پر اتفاق کرے۔واضح رہے کہ روس نے گذشتہ ہفتے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ایسے پینل کے قیام سے متعلق امریکا کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں