.

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا خلیفہ حفتر سے ٹیلیفون پر رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی غسّان سلامہ نے جمعہ کے روز لیبیا کی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور لیبیا کی عمومی صورت حال اور سیاسی پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

یہ بات العربیہ نیوز چینل نے خصوصی طور پر لیبیا کی سپورٹ کے لیے مقرر اقوام متحدہ کے مشن کے حوالے سے بتائی۔ ٹوئٹر پر مذکورہ مشن کا یہ اعلان اُن زیر گردش خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ خلیفہ حفتر پیرس کے ایک ہسپتال میں وفات پا گئے ہیں۔ ان خبروں نے لیبیا بالخصوص سوشل میڈیا میں بھونچال پیدا کر دیا اور حفتر کے بعد کے ممکنہ منظر ناموں کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی۔

دوسری جانب کی فوج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جمعے کے روز بتایا کہ "خلیفہ حفتر کی وفات سے متعلق جھوٹی خبریں 'سائبر دہشت گردی' کی کڑی ہے۔ اس کا مقصد مسلح افواج کی جنرل کمان اور بعض قبائل کے درمیان فتنہ برپا کرنا ہے"۔ المسماری کے مطابق خلیفہ حفتر کی صحت بہت بہتر ہے اور آئندہ دو روز میں وہ آپریشنز ہیڈکوارٹر میں نظر آئیں گے۔

یاد رہے کہ مئی 2014ء میں جنرل خلیفہ حفتر نے "الکرامہ آپریشن" کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن کا مقصد لیبیا کو دہشت گردی اور قانون کے دائرے سے خارج عناصر سے پاک کرنا تھا۔

سال 2015ء میں پارلیمنٹ نے حفتر کو لیبیا کی فوج کا کمانڈر مقرر کر دیا جس کے بعد 2016ء میں انہیں فیلڈ مارشل کے منصب پر ترقی دے دی گئی۔