نفرت پر اکسانے کے الزام میں الجزائری امام فرانس سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی حکام نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور مسجد کے امام کو نفرت انگیز تقاریر کرنے اورشام کا سفر کرنے کے الزام میں ملک سے بے دخل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی حکام نے الجزائری امام الھادی دودی کو نفرت پرمبنی تقاریر کرنے کے الزام سے ملک سے بے دخل کرنے کے بعد ان کی مسجد کو چار ماہ کے لیے بند کردیا ہے۔

خیال رہے کہ 63 سالہ الھادی دودی کوسنہ 1990ء کےعشرے میں الجزائر میں بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان پر ’اسلامک نجات فرنٹ‘ کے ساتھ تعلق اور جماعت کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ فرانسیسی وزارت داخلہ نے الھادی دودی کو ملک سے بے دخل کرنے کی منظوری دی ہے تاہم یورپی یونین کی انسانی حقوق کی ایک عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد روک دیاہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ الھادی دودی پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے گذشتہ برس نومبر میں مسجد میں ایک تقریر کی تھی جس میں فرانس کی جمہوری روایات کے منافی انتہا پسندی کی ترویج دی تھی۔ اس سے قبل 2013ء سے 2017ء کے دوران بھی وہ فرانس میں متعدد بار اپنی تقاریر میں نفرت پر اکسانے کی کوشش کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہودیوں کو خنزیر اور بندر قرار دیا اور کہا تھجا کہ کفار سنگ سار کیے جانے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے زنا کرنےوالوں، خواتین، اہل تشیع اور یہودیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی بھی ترغیب دی تھی۔

خیال رہے کہ فرانسیسی حکام نے گذشتہ برس دسمبر میں مرسیلیا شہر میں ایک مسجد کو نفرت پر اکسانے کے الزام میں استعمال کرنے پر چھ ماہ کے لیے سیل کردیا تھا۔

فرانسیسی اخبارات سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ الھادی دودی نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف کوئی نفرت انگیز بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چالیس سال سے فرانس میں رہ رہا ہوں۔ آج اگر مجھے ملک سے بے دخل کیا جاتا ہے تو میں اپنے بچوں سے جدا ہوجائوں گا۔

الجزائر کے انسانی حقوق رابطہ گروپ کے رکن عبدالغنی بادی نے الھادی دودی کی الجزائر میں متوقع گرفتاری کے امکان کو رد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ الجزائر میں دوران حراست تشدد جیسے حربے اب استعمال نہیں ہوتے اور اس نوعیت کی شکایات آنا بند ہوگئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں