"یمن میں حوثیوں کو مدد فراہم کرنے والوں پر امریکی پابندیاں قابل تحسین ہیں"
امریکا کے لئے سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے یمنی حوثیوں کو بیلسٹک میزائل فراہمی میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان اقدامات پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں امریکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ابتک سعودی عرب میں شہری ٹھکانوں پر یمنی علاقوں سے 140 بیلسٹک میزائل فائر کئے جا چکے ہیں جبکہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو دفاعی نوعیت کی سرگرمی قرار دیتا ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو اپنے ٹویٹ میں مخاظب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لئے یمن میں سرگرم ملیشیا کو میزائل کی فراہمی کیونکر ایران کے دفاع میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
Grateful to US for taking this step. To date, over 140 ballistic missiles were fired at civilian targets in KSA. Iran claims its missile program is defensive. I ask @JZarif how is supplying missiles to a Yemeni militia targeting Riyadh helping defend Iran? https://t.co/0WfkUZxUVJ
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) May 23, 2018
شہزادہ خالد نے امریکی وزارت خزانہ کے جاری کردہ پریس ریلیز بھی ٹویٹ کے ساتھ منسلک کیا ہے جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کا ہدف بننے والے پانچوں ایرانی شہری یمن کے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل سے متعلق فنی معاونت فراہم کر رہے تھے۔
حالیہ پابندیاں جنوری میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کی جانب سے پیش کی جانے والی رائے پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا فوجی ساز وسامان ایرانی ساختہ تھا۔
امریکی وزارت خزانہ کے وزیر سٹیو ن منوچین کے دستخط سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ پانچ ایرانی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان کے معاونت سے حوثیوں کو سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنانے میں مدد ملی۔ان کے اقدامات نے یمن میں انسانی امداد فراہمی کی کوششوں اور علاقائی سمندروں میں جہاز رانی کی نقل وحرکت کو بھی گزند پہنچایا۔