مراکش: کم عمر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے "امام" کا اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں ایک مسجد کے امام کے ہاتھوں کم عمر بچیوں کے جنسی ہراسیت کا نشانہ بننے کے انکشاف نے عوامی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اندوہ ناک واقعہ وسطی شہر مراکش کے ایک نواحی گاؤں کا ہے جہاں 45 سالہ مذکورہ امام نے اپنے پاس قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والی کم عمر بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔

اتوار کے روز اس امام کی درندگی کا شکار ہونے والی ایک 17 سالہ لڑکی نے سکیورٹی فورسز کے سامنے اعتراف کیا کہ گاؤں کی مسجد میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی جب کہ اس کی عمر اس وقت صرف 10 برس تھی۔ اس انکشاف نے نمازیوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اعتراف کرنے والی لڑکی کے والد کی شکایت پر سکیورٹی فورسز نے ملزم کو حراست میں لے کر استغاثہ کی تحقیقات کا دروازہ کھول دیا۔

گاؤں کی مسجد کے امام کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں جس پر 7 سے 12 برس کی 7 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ امام کئی برسوں سے کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال کا عادی ہے۔ وہ ہر سبق کے اختتام پر بچیوں کو مسجد کی صفائی کا بولا کرتا تھا جب کہ جس بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانا ہوتا اسے اپنے کمرے کی صفائی کا حکم دیتا تھا۔

مسجد کا امام شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ بھی ہے۔

ادھر مراکش میں انسانی حقوق کی انجمن نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ اس امامِ مسجد کی ہوس کا نشانہ بننے والی سابقہ اور موجودہ لڑکیوں کا پتہ چلایا جائے اور جنسی زیادتی ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں