جیمز میٹس شمالی کوریا سے امریکی فوجیوں کی باقیات واپس ملنے کے حوالے سے پُر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اُن امریکی فوجیوں کی باقیات جلد حوالے کر دی جائیں گی جو 1950ء سے 1953ء کے درمیان کوریا کی جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔

امریکی وزیر دفاع نے اتوار کے روز بتایا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے 12 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں اس امر کا عہد کیا تھا۔ میٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں اقوام متحدہ کی فورسز ان باقیات کو وصول کرنے کے واسطے تیار ہیں۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ "ہم اس حوالے سے پُر امید" ہیں کہ حوالگی کا عمل شروع ہو جائے گا۔

سنگاپور معاہدے کی چوتھی شِق کے مطابق امریکا اور شمالی کوریا نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ جنگی قیدیوں اور جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی باقیات حاصل کریں گے اور جن لوگوں کی شناخت ہو چکی ہے انہیں فی الحال ان کے ملکوں کو واپس کیا جائے۔

چند روز قبل پینٹاگون نے کوریا کی جنگ میں لاپتہ ہونے والوں کے حوالے سے ایک یادداشت جاری کی تھی جس میں بتایا گیا کہ "شمالی کوریا کے ذمّے داران کا کہنا ہے کہ ان کو گزرے سالوں کے دوران 200 افراد کی باقیات ملی ہیں"۔

کوریا کی جنگ کے دوران جزیرہ نما کوریا میں 35 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ کا اختتام کسی امن معاہدے کے ذریعے نہیں بلکہ جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہوا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق مذکورہ فوجیوں میں 7700 ابھی تک لاپتہ شمار کیے جاتے ہیں جن میں 5300 شمالی کوریا میں ہیں۔

واشنگٹن اور پیونگ یانگ کے درمیان طے پائے گئے ایک سابقہ معاہدے کے تحت 1990ء سے 2005ء کے درمیان امریکا کو 229 فوجیوں کی باقیات واپس ملیں۔ تاہم اس معاہدے کے اثرات دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بگڑنے سے منجمد ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں