قذافی کے قتل کے سات سال بعد بھی ان کے خاندان کا مستقبل پراسرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے سابق مرد آہن کرنل معمر القذافی کے قتل اور ان کی چار عشروں پر محیط حکومت کے خاتمے کے بعد مقتول لیڈر کا خاندان سات سال بعد بھی منتشر ہے اور اس کا سیاسی مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق قذافی خاندان کے کئی اہم افراد روپوش، قید یا بیرون ملک مفرور ہیں۔ بعض کے بیرون ملک سفر پر پابندی عاید ہے۔

سیاست کے میدان میں سب سے زیادہ سرگرم رہنے والے قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو لیبیا کی جیل سے رہائی تو مل گئی تھی مگر وہ اب بھی عالمی فوج داری عدالت کا اشتہاری ہے اور لبنان کے اندر ہی خاموشی کے ساتھ روپوش ہے۔

ایک دوسرا بیٹا ھنیبعل القذافی تین سال سے لبنان میں قید ہے اور عدالت نے اس کی قید میں ایک سال کا مزید اضافہ کردیا ہے۔

الساعدی القذافی فرار ہو کر نائیجیریا چلا گیا تھا مگر نیجر حکومت نے اسے لیبیا کے حوالے کردیا اور وہ چار سال سے طرابلس کی جیل میں ہے۔

مقتول مرد آہن کی صاحبزادی عائشہ القذافی اور اس کی ماں صفیہ فرکاش کو عالمی سطح پر سفری پابندیوں کا سامنا ہے۔ حال ہی میں معلوم ہوا تھا کہ وہ سلطنت اومان میں ہیں۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصہ الجزائر میں سیاسی پناہ گزین کے طورپر رہ چکی ہیں۔ ان کے ساتھ قذافی کا بڑا بیٹا محمد بھی اومان میں ہے۔

کرنل قذافی کے تین بیٹے خمیس، سیف العرب اور متعصم سات سال قبل خانہ جنگی میں ہلاک ہو گئے تھے۔

لیبیا کے سیاسی ذرائع کے مطابق قذافی کے خاندان کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں ماضی کے ان کے جرائم اوران کی حمایت میں لڑنے والی ملائیشیائیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں