عراق کی سرحد پر کرد جنگجوؤں کے حملے میں 11 ایرانی محافظ ہلاک
عراق کے ساتھ سرحد پر واقع ایک چوکی پر کرد جنگجوؤں کے حملے میں سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے سپاہ پاسداران انقلاب کےایک بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ایرانی کردستان کے علاقے میں متعدد حملہ آور ’’ دہشت گردوں‘‘ کو ہلاک کردیا گیا ہے اور لڑائی کے دوران میں ایک اسلحہ ڈپو کو بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔
کردستان کے ایک سکیورٹی عہدہ دار حسین خوش اقبال نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ مریوان کے علاقے میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تشدد کے واقعے میں پاسداران انقلاب کے تحت رضاکار بسیج فورسز کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں ۔انھوں نے کرد حزبِ اختلاف کے مسلح گروپ پی جے اے کے کو ان کی ہلاکتوں کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بسیج ملیشیا اور پاسداران انقلاب حملہ آوروں کا پیچھا کررہے ہیں ۔
پارٹی آف فری لائف کردستان ( پی جے اے کے) کو ایرانی حکومت نے کالعدم قراردے رکھا ہے۔ یہ گروپ ایرانی کردوں کے ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں حق خود اختیاری کے لیے لڑرہا ہے اور اس کے ترکی کے کرد جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) سے روابط ہیں۔اس کے شمالی عراق میں دوسرے مسلح کرد گروپوں سے بھی روابط ہیں ۔
گذشتہ ماہ پاسداران انقلاب نے عراق کی سرحد کے نزدیک ایک سکیورٹی آپریشن میں تین جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔سرحد سے شمال میں واقع ایک اور علاقے میں پاسداران انقلاب نے ایک اور کارروائی میں نو جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔
ایران کے وزیر برائے سراغرسانی محمود علاوی نے گذشتہ منگل کو یہ اطلاع دی تھی کہ سکیورٹی فورسز نے ملک کے جنوب مغربی علاقے میں داعش کے چار مشتبہ ارکان کو گرفتار کرلیا ہے اور وہ ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی رہے تھے۔