.

شمالی کوریا حوثیوں کو ہتھیار فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور شام کے درمیان ممنوعہ عسکری تعاون "بنا کسی تعطّل کے جاری ہے"۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیونگ یانگ اس وقت مشرق وسطی اور افریقہ کے بعض ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ان میں یمن میں حوثی جماعت بھی شامل ہے۔

خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو موقوف نہیں کیا ہے جو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

جمعے کی شب تاخیر سے پیش کی جانے والی یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل درامد کی نگرانی کرنے والے آزاد ماہرین نے سلامی کونسل میں شمالی کوریا پر پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو پیش کی۔

یہ رپورٹ 149 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے پٹرولیم مصنوعات غیر قانونی صورت میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز منتقل کیے جانے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا اور 2018ء کے دوران سمندر میں کوئلہ بھی منتقل کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مشن نے رپورٹ پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے ٹیکسٹائل سیکٹر پر عائد پابندیوں کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔ اس سلسلے میں اکتوبر 2017ء سے مارچ 2018ء کے درمیان چین، گھانا، بھارت، میکسیکو، سری لنکا، تھائی لینڈ، ترکی اور یوراگوائے کو 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا سامان برآمد کیا گیا۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور چین کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے درمیان ملاقات کے بعد سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ پابندیوں کا معاملہ زیر بحث لائے۔

ٹرمپ سے ملاقات میں کم جونگ اُن نے جوہری ہتھیاروں کی مکمل تلفی پر کام کرنے کا عہد کیا تھا۔

ادھر سلامتی کونسل میں امریکا اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے اپنے وعدوں پر عمل درامد کیے جانے تک پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنا ناگزیر ہے۔