.

اخوان المسلمون نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا : سعودی وزیر

کوئی بھی حج کو سیاسی بناسکتا ہے اور نہ اس کو شریعت کے مقاصد سے ہٹا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور ، دعوۃ اور ارشاد ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون نے ناانصافی کو فروغ دیا اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔اس جماعت کے بعض پڑوسی ممالک میں تخریب اور تباہی کے ثبوت موجود ہیں۔

سعودی وزیر جمعرات کو منیٰ میں حج انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ایک نیوزکانفرنس میں گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ اخوان المسلمون نے بغاوت کے بیج بونے کے لیے سعودی عرب میں د ر اندازی کی کوشش کی تھی لیکن اللہ نے ہمیں اس سے محفوظ رکھا اور شہریوں کو بھی اس کا احساس ہوگیا تھا اور وہ جان گئے تھے کہ برائی کے وکیل لوگوں کو گم راہ ہی کرسکتے ہیں۔ہمارے علماء اور دانشور قیادت اور شہریوں کے ساتھ یک جا اور متحد رہے جس کی بدولت ہم اس مرحلے سے استحکام اور اتحاد کی جانب آگے بڑھنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔

ڈاکٹر آل الشیخ نے کہا:’’ ہمیں ماضی میں ’’ دعوہ‘‘ کے بعض علمبرداروں کی سرگرمیوں سے نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے بعض مقامات پر اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا۔ قرآن وسنت کے منافی انتہا پسندانہ نظریات کی تبلیغ کی اور سخت گیر نقطہ نظر کی تشہیر کی۔انھوں نے لوگوں کو انتہا پسندی پر اکسایا اور انھیں نقصان پہنچایا‘‘۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’کوئی بھی حج کو سیاسی نہیں بناسکتا اور نہ اس کو شریعت کے مقاصد سے دو ر لے جاسکتا ہے ۔سعودی عرب کو کسی کو اس کی اجازت نہیں دے گا‘‘۔

ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کو اس مقدس سرزمین کا دفاع کرنا چاہیے ۔سعودی عرب الحرمین الشریفین اور دوسرے مقدس مقامات کے تحفظ وترقی کے لیے جو کچھ کررہا ہے، وہ دل کو گرمانے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملہ دراصل اسلام اور درست عقیدے پر حملہ ہے۔انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے سعودی مملکت کی کاوشوں سے انکاری ہیں ، وہ یا تو نفرت کے پجاری دشمن ہیں یا پھر جاہل ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وزارت اسلامی امور اپنی تمام سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کو متعارف کرارہی ہے۔ مساجد میں نگرانی کے لیے کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ وہاں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی وزارت براہ راست نگرانی کرسکے اور ان مراکز کو کنٹرول کے ذریعے انتہا پسندی کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔