.

استنبول میں پولیس ترک ماؤں کے مظاہرے پر پِل پڑی ،23 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں پولیس اپنے پیاروں کی یاد میں مظاہرہ کرنے والی ماؤں پر پل پڑی ہے اور اس نے احتجاجی مظاہرے میں شریک بیس سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترک مائیں 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں لاپتا کیے گئے اپنے پیاروں کی یاد میں 27 مئی 1995ء سے ہفتہ وار مظاہرے کررہی ہیں اور آج ان کے مظاہروں کا یہ سات سوواں ہفتہ تھا۔ان کے پیاروں کو دو عشروں کے دوران میں ترکی میں بد امنی کے دور میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے پکڑ کر لاپتا کردیا تھا۔

فرانسیسی خبرررساں ایجنسی اے ایف پی کے فوٹو گرافر کے مطابق پولیس نے مظاہرے میں شریک خواتین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور واٹر کینن سے ان پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہے۔

ترک میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے 23 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں وہاں کھڑ ی گاڑیوں میں ٹھونس کر کہیں لے جایا گیا ہے۔حراست میں لیے گئے افراد میں ماؤں کے مظاہرے کی عمر رسیدہ معروف لیڈر ایمن اوچک بھی شامل ہیں۔ان کی عمر بیاسی سال بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے اس کریک ڈاؤن سے قبل استنبول کے علاقے بے اوغلو میں حکام نے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے انعقاد پر پابندی عاید کردی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ اس ریلی کے لیے اپیل کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) سے وابستہ سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر کی گئی تھی لیکن اس کی اجازت کے لیے باضابطہ طور پر کوئی درخواست نہیں دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ کالعدم پی کے کے کی ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں خود مختاری کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد کے عروج کے زمانے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو لاپتا کیا گیا تھا۔مسلح کردوں نے 1984ء میں ترک حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی اور ان کی تشدد آمیز سرگرمیاں آج تک جاری ہیں۔اس دوران میں ہزاروں افراد اپنی زندگیوں کی باز ی ہار چکے ہیں۔ ترک حکام کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چونتیس سال کے دوران میں کم سے کم پچاس ہزار افراد مارے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکام نے ان افراد کو زیر حراست رکھنے کے بعد لاپتا کر دیا تھا مگر آج تک ریاست نے ان کے بارے میں کوئی مناسب تحقیقات نہیں کی ہیں کہ انھیں آسمان نے اچک لیا یا زمین کھا گئی۔ان کی بازیابی کے لیے ماؤں کا گروپ پولیس کی کارروائیوں کے ردعمل میں 1999ء سے 2009ء تک مسلسل احتجاجی مظاہرے نہیں کرسکا تھا ۔اس کے بعد سے وہ گذشتہ نو سال سے مظاہرے کررہی ہیں لیکن اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہوتی ہے۔