بشار کے ساتھ ہمارے تعلقات کا فیصلہ کوئی تیسرا فریق نہیں کرے گا : ایران
ایک ایسے وقت میں جب کہ بشار حکومت کی جانب سے اپنی فورسز کو اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے ،،، فعّال علاقائی فریق اس بات کے لیے سرگرم ہیں کہ شامی صوبے اِدلب کے معاملے کو عسکری مداخلت کے بغیر نمٹانے کی کوئی صورت نکل آئے۔
شامی وزیر دفاع علی ایوب نے باور کرایا ہے کہ اِدلب ایک بار پھر وطن کی گود میں واپس آ جائے گا۔ اپنے ایرانی ہم منصب کی میزبانی اور ملاقات کے دوران علی ایوب کا کہنا تھا کہ "شام کی مٹی کو مکمل طور پر دہشت گردی سے پاک کر دیا جائے گا ،،، یا تو مصالحتوں کے ذریعے اور یا پھر زمینی کارروائیوں کے ساتھ"۔
ایرانی وزیر دفاع نے دمشق کے دورے میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ جنگ کے بعد اُن کے ملک کا شام میں مرکزی کردار ہو گا۔ اس سلسلے میں تہران نے سب کو چیلنج کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ شام اور ایران کے بیچ تعلقات کی نوعیت کا فیصلہ "تیسرا فریق" نہیں کرے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی اڈوں اور فورسز پر لگائی جانے والی ضربوں سے ایران لڑکھڑایا نہیں ہے۔
-
ترک صدر کا شام اور عراق میں ’سلامتی اور امن‘ کے قیام کا عزم
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عراق اور ترک فورسز کے کنٹرول سے باہر شام کے ...
بين الاقوامى -
ایرانی وزیر دفاع ’’فوجی اجلاس میں شرکت‘‘ کے لئے شام پہنچ گئے
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق ایران کے وزیر ...
مشرق وسطی -
شام : السویدہ سے 27 افراد کا اغوا داعش کا جنگی جرم قرار
شام کے جنوبی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں نے ستائیس یر غمالیوں کو بدستور ...
مشرق وسطی