.

سعودی عرب :محکمہ شہری دفاع نے الدمام میں سرکاری عمارت میں لگی آگ پر قابو پا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے مشرقی شہر الدمام میں پبلک پراسیکیوشن کی ایک عمارت میں لگی خوف ناک آگ پر قابو پالیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق الدمام میں پبلک پراسیکیوشن کی اس عمارت میں اتوار کو اچانک ائیر کنڈیشننگ نظام بند ہوجانے سے آگ بھڑک اٹھی تھی اور اس نے آناً فاناً پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے آگ بجھانے والا عملہ اور بیس امدادی یونٹس بھیج دیے اور انھوں نے کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد اس خوف ناک آگ پر قابو پالیا ہے ۔

پراسیکیوشن کے دفاتر پر مشتمل یہ عمارت دس منزلہ ہے ۔اس کا ڈھانچا آپس میں جڑی ہوئی دو عمارتوں پر مشتمل ہے۔آگ کا آغاز اس کی بالائی چھت سے ہوا تھا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے کے تمام حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کا سامنے کا حصہ ایلومینیم اور شیشے کی کھڑکیوں پر مشتمل تھا۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے امیر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے آتش زدگی کے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تمام متعلقہ محکموں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ قبل ازیں انھوں نے آگ بجھانے والے عملہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مکمل احتیاط سے امدادی سرگرمیاں انجام دے۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘‘۔پبلک پراسیکیوشن کے ایک ذریعے نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ عمارت میں آگ لگنے سے کوئی فائلیں ضائع نہیں ہوئی ہیں کیونکہ تمام دستاویزات ایک الیکٹرانک سسٹم میں محفوظ ہیں ،اسی پر انفرادی کیسوں کو بھی محفوظ کیا جاتا ہے ۔اس کا ایک خودکار مرکزی بیک اپ سسٹم بھی موجود ہے۔

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن سے متعلقہ تمام محکمے سوموار کو معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں گے کیونکہ اس طرح کے انہونے واقعات کی صورت میں پہلے ہی متبادل بندوبست موجود ہے۔

اس نے آتش زدگی کے اس واقعے میں کسی قسم کی تخریب کاری کو خارج از امکان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ائیر کنڈیشننگ مشینوں کے اچانک خراب ہوجانے سے عمارت کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔