.

قطری قبیلے آل غفران کی ملک بدری دنیا کی بڑی غیر متناسب بے دخلی ہے: شیخ سلطان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے حکمراں خاندان سے تعلق رکھنے والی حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیت شیخ سلطان بن سحیم نے حکومت کی جانب سے ایک بڑے قبیلے آل غفران کے ہزاروں ارکان کو بے ریاست قرار دینے کے اقدام پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

شیخ سلطان بن سحیم نے منگل کے رو ز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ دو حمد نظام نے قطر سے آل غفران قبیلے کے پانچ ہزار افراد کو ملک بدر کردیا تھا اور یہ دنیا میں سب سے بڑی جبری بے دخلی تھی۔اس وقت ملک کی کل آبادی دو لاکھ نفوس کے لگ بھگ تھی اور جبری بے دخل کیے گئے افراد کی تعداد کل آبادی کا 2.5 فی صد تھی‘‘۔

وہ مزید لکھتے ہیں :’’آل غفران قبیلے سے’دو حمد نظام ‘نے ناانصافی کا ارتکاب کیا ہے۔انھیں کسی حق کے بغیر بے دخل کردیا گیا ہے اور ان کی شہریت منسوخ کردی گئی ہے‘‘۔

شیخ سلطان بن سحیم قطر کے شاہی خاندان کے پہلے فرد ہیں جو امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی قیادت میں حکومت کے اپنے مخالفین کے خلاف معاندانہ اقدامات کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے چار خلیجی عرب ممالک کی جانب سے قطر کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں بائیکاٹ کی بھی حمایت کی تھی اور حکمران خاندان سے اپنے طور طریقے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دریں اثناء آل غفران قبیلے نے عالمی برادری سے قطری امیر شیخ تمیم کی قیادت میں رجیم کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس قبیلے کا کہناہے کہ اس نظام نے اس کے ارکان کو ملک سے بے دخل کرکے متعدد بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

قبیلے کے جلا وطن ارکان نے آج جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے باہر قطری رجیم کے جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور قبیلے کے پانچ ہزار سے زیادہ افراد کی شہریت منسوخ کرنے ، انھیں ریاستی تشدد کا نشانہ بنانے اور در بدر کرنے کی مذمت کی ہے۔

آل غفران قطر کے بڑے قبائل میں سے ایک ہے۔اس کے وفد نے سوموار کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک عرض داشت بھی پیش کی تھی اور اس میں اپنے قبیلے کے خلاف قطری حکام کے ناروا امتیازی سلوک اور چیرہ دستیوں کو بند کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔