.

شمالی کوریا سے فوری مذاکرات کے لیے تیار ہیں:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شمالی اور جنوبی کوریا کی قیادت کے درمیان طے پانے والے تخفیف اسلحہ کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے شمالی کوریا کے ساتھ فوری مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریائی ملکوں کی قیادت کی حالیہ ملاقات اور پیانگ یانگ کی جانب سے خطرناک ہتھیاروں کی تلفی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد امریکا بھی شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جنوری 2021ء تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کو مکمل طورپر تلف کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے غیر ملکی ماہرین کی موجودگی میں اپنی میزائل تنصیبات مستقل طور پر ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا بھی ایسا ہی اقدام اٹھائے تو وہ اپنی مرکزی جوہری تنصیب بھی بند کرنے پر تیار ہے۔

یہ اعلان بدھ کو پیانگ یانگ میں جنوبی و کوریائی صدور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان تین روزہ سرکاری دورے پر منگل کو پیانگ یانگ پہنچے تھے جہاں انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔

دورے کے دوسرے روز مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے جزیرہ نما کوریا کو "جوہری ہتھیاروں اور جوہری خطرات سے پاک امن کی سرزمین" بنانے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فوری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے جس کا مقصد دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانا اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔

شمالی کوریا کی یقین دہانیاں

بدھ کو پریس کانفرنس میں کم جونگ ان نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جلد جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے جو شمالی کوریا کے کسی بھی سربراہ کا پڑوسی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔

دونوں رہنما منگل کی شب پیانگ یانگ میں ہونے والے عشائیے میں شریک ہیں۔

اس موقع پر صدر مون کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کا یہ دورہ رواں سال کے اختتام تک ہونے کی توقع ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ صدر مون کے ساتھ اپنی پہلی دو ملاقاتوں اور رواں سال جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی تاریخی ملاقات میں جوہری اور میزائل تجربات روکنے اور خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔

لیکن تاحال یہ طے نہیں ہوسکا کہ شمالی کوریا اپنے ان وعدوں پر کب اور کیسے عمل کرے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا ان مقاصد کی جانب واضح پیش رفت کرے جس کے بعد ہی اس پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

اس کے برعکس پیانگ یانگ کی خواہش ہے کہ اس کی یقین دہانیوں کے جواب میں اس پر سے پابندیاں اٹھانے کا عمل شروع کردیا جائے جس کے بعد وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد شروع کرے گا۔

گو کہ شمالی کوریا کی حکومت یک طرفہ طور پر اپنے میزائل اور جوہری تجربات روک چکی ہے لیکن اس نے رواں سال مئی میں بین الاقوامی ماہرین کو اپنی اس واحد معلوم جوہری تجربہ گاہ کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بارے میں پیانگ یانگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے بند کردیا گیا ہے۔

بدھ کو اپنی پریس کانفرنس میں صدر مون جائے ان نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا نے "متعلقہ ملکوں" کے ماہرین کو ان بند تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے جہاں میزائلوں اور ان کے انجنوں کے تجربات کیے جاتے ہیں۔