.

امریکی صدر ٹرمپ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں: حسن روحانی

ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، اس نے اپنی پیش رو انتظامیہ کی پالیسیوں ہی کو روند دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا ہے اور امریکا کو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا : ’’ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکی حکومت اس ( ایرانی) حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے کو نہیں چھپاتی ہے جس کو وہ خود ہی مذاکرات کی دعوت بھی دیتی ہے‘‘۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کی مذمت کی ہے۔امریکی صدر نے قبل ازیں عالمی قیادت کے اجتماع سے اپنی خطاب میں ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے ایران کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں ایک بدعنوان آمریت ہے جو بیرون ملک جارحیت کے لیے اپنے عوام کی دولت اینٹھ رہی ہے‘‘۔ انھوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی تھی ۔

ایرانی صدر نے اپنی تقریر میں بعض ممالک کی جانب سے بین الاقوامی اقدار اور اداروں کی بے توقیری کے رویے کی مذمت کی۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مئی میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر نے ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور بعض پابندیوں کا 4نومبر سے نفاذ کیا جارہا ہے۔امریکا نے دنیا کے دوسرے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایران سے اس تاریخ تک تیل کی خریداری بند کردیں، دوسری صورت میں ان کے خلاف بھی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

صدر حسن روحانی نے اپنی تقریر میں امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو ’ اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا :’’ ہماری تجویز بڑی واضح ہے :وعدے پر وعدہ ،خلاف ورزی پر خلاف ورزی ، دھمکی پر دھمکی اور بات چیت برائے بات چیت کے بجائے اقدام کے جواب میں اقدام ہوگا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کیسے کوئی سمجھوتا طے پاسکتا ہے جب اس نے اپنی پیش رو انتظامیہ کی پالیسیوں ہی کو روند دیا ہے اور ان کی خلاف ورزی کی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے وقت یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ایران کو دہشت گردوں کی مالی سرپرستی سے روکنے میں ناکام رہا ہے، نیز جولائی 2015ء میں جوہری معاہدے پر دست خط کے بعد سے ایران اپنے دفاعی بجٹ میں 40 فی صد تک اضافہ کرچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے میں بہت سے سقم پائے جاتے ہیں اور یہ کوئی پائیدار سمجھوتا نہیں ہے۔