ایران کے نکلنے تک ہم شام میں رہیں گے : امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے لیے خصوصی امریکی نمائندے جیمز جیفری کا کہنا ہے کہ جب تک ایران شام میں موجود ہے ، امریکا بھی وہاں اپنی موجودگی کو برقرار رکھے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شام میں امریکی کردار فوجیوں کی موجودگی کی ضرورت کا متقاضی نہیں۔

یہ بات جیفری نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

حالیہ کچھ عرصے میں دیگر سینئر امریکی عہدے داران کی جانب سے بھی تجویز سامنے آنا شروع ہو گئی ہے کہ ایران کے مقابلے کے لیے شام میں غیر معینہ مدت تک فورسز کو باقی رکھا جائے۔

ان فورسز کے غیر معینہ مدت تک کے لیے باقی رہنے کی صورت میں اس مشن کی شکل بنیادی طور پر تبدیل ہو جائے گی جس کی اجازت سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دی تھی۔ اوباما نے "داعش" تنظیم کی ہزیمت کو مشن کا ہدف قرار دیا تھا۔

جیفری کے مطابق شام میں امریکا کی زمینی فورسز کے پاس اس وقت داعش کی دائمی شکست کا مشن ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جیفری نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ "تمام مطلوبہ شرائط پوری ہونے تک ہم شام میں رہیں"۔ تاہم جیفری نے کہا کہ "زمین طور پر موجودگی کے بہت سے طریقے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ٹیمیں شام کے کئی علاقوں میں موجود ہیں جس کا مطلب ہوا کہ یقینا ہم سفارتی طور پر شامی سرزمین پر ہیں"۔

امریکی نمائندے نے بتایا کہ "ہم نے شام کے متعدد علاقوں میں مقامی فورسز کو تربیت دی ہے"۔

یاد رہے کہ اس وقت شام میں 2000 کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔ یہ فوجی مرکزی طور شامی حکومت کی مخالف کرد اور سیرین فورسز کی تربیت اور ان کے ساتھ مشاورت انجام دے رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "جب تک ایرانی فورسز اپنی سرحد سے باہر موجود ہیں ہم (شام سے) کوُچ نہیں کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں