حوثی ملیشیا کی پابندیاں ، لاکھوں یمنیوں میں اقوام متحدہ کی نقد امدادی رقوم کی تقسیم معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کے حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسف نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے دباؤ کے بعد یمن کے انتہائی ضرورت مند قریباً 90 لاکھ افراد میں نقد امدادی رقوم کی تقسیم معطل کردی ہے۔

یونیسف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ یمن میں کال سنٹر کے قیام میں ناکامی کے بعد کیا ہے۔اسی کال سنٹر کے ذریعے اس کو مالی امداد سے استفادہ کرنے والے حاجت مند یمنیوں سے ردعمل موصول ہونا تھا۔ تاہم اس نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت ادارے نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب یمن کی مقامی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے ، خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے پیش نظر انسانی بحران بد تر ہونے کا اندیشہ ہے۔

یونیسف کے امدادی پروگرام سے وابستہ دو ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے کال سنٹر کے قیام میں رکاوٹیں ڈالی ہیں کیونکہ اس کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس کے ذریعے یونیسف کی امدادی رقوم میں حوثیوں کے ہیر پھیر کا پردہ فاش ہوسکتا تھا۔

حوثیوں نے گذشتہ ہفتے یمن میں ایک اور امدادی ادارے ایڈوینٹسٹ ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف ایجنسی ( اے ڈی آر اے) کے کنٹری ڈائریکٹر کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔حوثی ملیشیا اس ایجنسی پر یہ دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ اس کے اہلکاروں کے نام امداد پانے والے افراد کی فہرست میں شامل کرے، نیز وہ جن افراد کو مالی امداد مہیا کرتی ہے،ان کی فہرست کا بھی اس کے ساتھ تبادلہ کرے۔

جب اے ڈی آر اے کے یمن میں کنٹری ڈائریکٹر افرائیم پالمیرو نے اس پر اعتراض کیا تو انھیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ اگر وہ ملک سے باہر گئے تو انھیں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اے ڈی آر ا ے ان بہت سی بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں میں سے ایک ہے جو جنگ زدہ یمن میں لاکھوں افراد کو امداد مہیا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔

اس ایجنسی کے صدر جوناتھن ڈوفی نے یمن میں حالاتِ کار کو بہت ہی پریشان کن قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ’’ پالمیرو کو سفری دستاویزات سے محروم کرنا انسانی امداد کی تقسیم کے لیے ایک خطرہ ہے‘‘۔

واضح رہے کہ یمنی ریال کی قیمت میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں بڑی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے ۔اس ہفتے ایک ڈالر کا 800 یمنی ریال میں لین دین ہورہا تھا جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یک دم ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے اور سعودی حکومت نے یمن کے مرکزی بنک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے 20 کروڑ ڈالرز کی ہنگامی امداد دی ہے۔ یمن میں 2014ء میں خانہ جنگی کے آغاز سے قبل ایک ڈالر کی قیمت 215 یمنی ریال تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں