.

ملائشیا: انور ابراہیم کی پارلیمان کے ضمنی انتخاب میں واضح اکثریت سے جیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم نے ملک میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں پارلیمان کی نشست واضح اکثریت سے جیت لی ہے۔اس کے ساتھ ہی ملائشیا کی مرکزی سیاست میں ان کے قائدانہ کردار کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔

ملائشیا کے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انور ابراہیم نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 71 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ان کے مد مقابل چھے امیدوار تھے۔ ان میں ان کا ایک سابق معاون بھی شامل تھا جس نے ان پر بدفعلی کا الزام عاید کیا تھا اور 2014ء میں انھیں دوسری مرتبہ جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

انور ابراہیم نے ضمنی انتخاب میں اس شاندار کامیابی پر تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے اپنے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ تمام مالیز کے ساتھ ساتھ چینیوں ، ہندوستانیوں اور چھوٹی کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی جماعت پاکتان ہرپان کی توثیق کی ہے اور اس کو عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹوں سے نوازا ہے‘‘۔

انھیں ضمنی انتخاب کے لیے مہم کے دوران میں ملک کی سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی حمایت حاصل رہی ہے اور ان دونوں لیڈروں کو کوئی دوعشرے کے بعد پہلی مرتبہ ملائشیا کے شہر پورٹ ڈکسن میں ایک انتخابی جلسے میں اسٹیج پر اکٹھے بیٹھے دیکھا گیا تھا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں 1998ء میں انور ابراہیم کو نائب وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کردیا تھا اور ان کے خلاف اخلاق باختگی کے سنگین الزامات عاید کیے گئے تھے۔ملائشیا کی ایک عدالت نے انور ابراہیم کو اپنے ایک ملازم سے بدفعلی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی تھی لیکن انھوں نے اپنے خلاف الزامات کو سیاسی اور من گھڑت قرار دیا تھا۔ انھیں ڈاکٹر مہاتیر محمد کی وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد 2004ء میں جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن 2015ء میں انھیں دوبارہ اسی الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

ملائشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی حکومت کے خلاف بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کے بعد ملکی سیاست میں ایک بڑا اتار چڑھاؤ آیا تھا ۔ڈاکٹر مہاتیر محمد نے سیاست میں واپسی اور انور ابراہیم کے زیر قیادت حزب اختلاف کی جماعت سے اتحاد کا اعلان کردیا تھا۔اس اتحاد نے اس سال مئی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئے تھے اور انھوں نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد انور ابراہیم کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے معافی دلادی تھی ۔انھوں نے دوسال کے اندر وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کا ا علان بھی کیا تھا۔اب انور ابراہیم کی جیت کی صورت میں ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ انھوں نے مذکورہ نیوز کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ وہ دوسرے لیڈروں کے ساتھ مل پارلیمان کو مضبوط بنائیں گے۔