سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا مطالبہ محض "جذباتی" ہے: ماکروں
فرانس کے صدر عمانویل ماکروں نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو جواز بنا کر سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کی وجہ سے سعودیہ کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا مطالبہ محض "جذباتی" ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کا جمال خاشقجی کیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہیے۔
خیال رہے کہ سنہ 2008ء سے 2017ء کے دوران سعودی عرب بھارت کے بعد فرانس سے اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ اس دوران سعودی عرب نے فرانس سے 13 ارب 80 کروڑ ڈالر کا اسلحہ اور جنگی ساز وسامان خرید کیا۔
-
فرانس سعودی عرب سے تعلقات کے بارے میں کوئی عاجلانہ فیصلہ نہیں کرے گا
فرانس نے کہا ہے کہ جب تک صحافی جمال خاشقجی کی موت کے تمام حقائق واضح نہیں ...
بين الاقوامى -
ایرانی منصوبہ بندی کے حوالے سے فرانس کے "بھرپور" ردّ عمل پر امریکا کی ستائش
امریکا قومی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف فرانس کے "بھرپور" ردّ عمل کو ...
بين الاقوامى -
فرانس نے ایران میں نئے سفیر کی تعیناتی روک دی
فرانس نے ایران میں نئے سفیرکی تعیناتی کا عمل روک دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ...
بين الاقوامى