.

صدر ٹرمپ غیر قانونی تارکینِ وطن کے نومولود بچّوں کا حقِ شہریت سلب کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے ہاں پیدا ہونے والے بچّوں کو ملنے والا شہریت کا آئینی حق ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک انتظامی حکم کے اجراء کے لیے اپنے قانونی مشیروں سے مشاورت کررہے ہیں۔

انھوں نے ایچ بی او سےایک انٹرویو کے دوران میں غیر تارکین وطن ِ کی امریکا میں آمد روکنے کے لیے اقدامات کے بارے میں گفتگو کی ہے۔انھوں نے کہا:’’ ہم دنیا میں واحد ملک ہیں جہاں ایک شخص آتا ہے،اس کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے اور یہ بچہ لازمی طور پر 85 سال تک تمام فوائد وثمرات کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکا کا شہری رہتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ یہ بات مضحکہ خیز ہے اور اس سلسلے کو روکنا ہوگا‘‘۔صدر ٹرمپ ایک عرصے سے ’’اینکر بچوں‘‘ کے خلاف لب کشائی کررہے ہیں۔انھوں نے انٹرویو کے دوران میں بتایا کہ انھوں نے اس معاملے پر اپنے قانونی مشیروں سے مشورہ کیا ہے۔ جب ان سے اس انتظامی حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ وہ ( قانونی مشیر)یہ کہہ رہے ہیں کہ میں صرف ایک انتظامی حکم سے ایسا کرسکتا ہوں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے وکلاء ان کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں ۔تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اس انتظامی حکم پر کتنا جلد عمل درآمد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی آئین میں چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو از خود ہی شہریت کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔

صدر ٹرمپ آیندہ ہفتے ملک میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کو جتوانے کی غرض سے ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور انھیں لبھانے کے لیے اس طرح کے اعلانات کررہے ہیں۔

انھیں یہ یقین ہے کہ تارکین ِ وطن پر توجہ مرکوز کرنے سے ان کے حامیوں کے جوش وجذبے میں اضافہ ہوگا اور ری پبلکنز کانگریس میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں گے۔تاہم اگر وہ آئین میں از خود یک طرفہ طور پر ترمیم کرتے ہیں تو ایک نئی قانونی اور عدالتی جنگ شروع ہوجائے گی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں صدر ٹرمپ کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔