.

عالمی فوجداری عدالت کالیبیا سے سیف قذافی اور محمود الورفلی کی حوالگی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (انٹرنیشنل کرمنل کورٹ) کی چیف پراسیکیوٹر فاتو بیسودا نے ا سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو پکڑنے اور انہیں مذکورہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے حرکت میں آئے۔

فاتو نے اپنے بیان میں عسکری کمانڈر محمود الورفلی کو حوالے کیے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ الورفلی، جو موت کے افسر کے نام سے جانا جاتا ہے، جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی مسلح افواج میں شامل ہے۔

چیف پراسیکیوٹر نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ الورفلی کو جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔ فاتو کے مطابق الورفلی 2016ء اور 2017ء کے دوران لیبیا میں سات واقعات میں براہ راست شریک رہا جس میں 33 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یاد رہے کہ لیبیا کی فوج کے سربراہ نے رواں برس 12 جولائی کو محمود الورفلی کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ حکم الورفلی کے جیل سے فرار ہونے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

رواں برس جنوری میں بھی لیبیا کی فوج نے الورفلی کو حراست میں لیے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اُس پر فوجی ہدایات اور احکامات کی خلاف ورزیوں اور بنغازی شہر میں افراتفری بھڑکانے کے الزامات تھے۔ الورفلی کئی وڈیو کلپوں میں اپنے قبضے میں موجود دہشت گرد قیدیوں کو عوامی مقامات پر فائرنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہوا نظر آیا تھا۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے مطابق خلیفہ حفتر نے ہر اُس شخص کی گرفتاری اور فوجی جیل پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے جس نے درحقیقت شہری اور عسکری قانون کی خلاف ورزی کی ہو یا وطن، شہریوں یا ریاست کے اداروں کے امن و امان کے لیے خطرہ بنا ہو۔

یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت ایک سے زیادہ مرتبہ مشرقی لیبیا کے حکام سے الورفلی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ تاہم لیبیا کی فوج کی جنرل کمان نے اسے مسترد کرتے ہوئے اپنے سرکاری ترجمان احمد المسماری کی زبانی اعلان کیا کہ الورفلی کے خلاف عدالتی کارروائی لیبیا کے قوانین کے مطابق عمل میں آئے گی۔