امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد قطر ائیرویز کی ایران کے لیے پروازوں میں اضافہ
قطر کی قومی فضائی کمپنی قطر ائیرویز نے جنوری سے ایران کے لیے اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔قطر ائیرویز نے یہ اعلان ایران پر امریکا کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے چند ہفتے کے بعد کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ تک رسائی بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
قطر ائیر ویز دوحہ اور تہران کے درمیان روٹ پر ہفتے میں دومزید پروازیں چلائیں گی اور جنوری سے شیراز کے لیے ہفتے میں تین مزید پروازیں چلائے گی۔وہ فروری میں اصفہان اور دوحہ کے درمیان بھی دو مزید پروازیں چلائے گی۔
قطر ائیرویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اکبر البکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ان نئی پروازوں کا اجرا ایران کے لیے قطری کمپنی کے عزم اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں اس کے نیٹ ورک کی توسیع کا آئینہ دار ہے‘‘۔
یورپ کی دو بڑی فضائی کمپنیوں ائیر فرانس اور برٹش ائیرویز نے اس سال ایران کے لیے اپنی پروازیں بند کردی ہیں۔ابو ظبی کی اتحاد ائیرویز نے بھی ایران کے لیے پروازیں معطل کردی ہیں جبکہ دبئی کی الامارات اور فلائی دبئی نے شراکت داری کے حصے کے طور پر بعض روٹس پر پروازوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
امریکا نے ایران کے خلاف 5 نومبر کو دوبارہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا ۔ان کے تحت ایران کے بنکوں ، تیل اور جہازرانی کے شعبے، قومی فضائی کمپنی اور دو سو ایرانی افراد کو ہدف بنایا گیا ہے۔متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ ان پابندیوں کی مکمل پاسداری کررہا ہے۔
امریکا کی پابندیوں کا مقصد ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار کرانا ہے۔اس کے علاوہ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور مشرقِ اوسط میں اپنی ضرررساں سرگرمیاں اور اثرورسوخ ختم کردے۔
قطر نے جون 2017ء سے چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کے بعد ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔سعودی عرب ، بحرین ، مصراور متحدہ عرب امارات نے ایران کا سیاسی اور معاشی بائیکاٹ کررکھا ہے۔ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا لیکن اس نے اس الزام کی تردید کی تھی۔