ایرانی عدلیہ کی ’’ توہین‘‘ کے جُرم میں صحافیہ کو 12 سال، 9 ماہ قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں ایک عدالت نے خواتین کے حقوق کی علمبردار صحافیہ ہنگامہ شہیدی کو 12 سال اور نوماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق انھیں ہفتے کے روز ’’غیر مخصوص الزامات‘‘ کی بنا پر یہ سزا سنائی گئی ہے۔ہنگامہ کے وکیل مصطفیٰ ترک ہمدانی نے ایرنا کو بتایا ہے کہ ’’ وہ مقدمے کی خفیہ سماعت اور اس کی سکیورٹی نوعیت کے پیش نظر عدالت کے فیصلے کی تفصیل بیان نہیں کرسکتے‘‘۔

انھوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ ان کی موکلہ پر قید کی مذکورہ مدت کے علاوہ سیاسی گروپوں میں شمولیت میں اختیار کرنے ،آن لائن یا میڈیا سرگرمی اور ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔

ہنگامہ شہیدی 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوران میں شکست خوردہ اصلاح پسند صدارتی امیدوار مہدی کروبی کی خواتین کے بارےمیں مشیر رہی تھیں۔ وہ ماضی میں صحافیوں اور سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کو جیلوں میں بند کرنے پر ایرانی عدلیہ پر کڑی تنقید کرتی رہی ہیں۔

2009ء میں متنازعہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف ایران کے چھوٹے بڑے شہروں میں کئی ماہ تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے تھے اور اصلاح پسند امیدواروں نے ایرانی نظام پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے محمود احمدی نژاد کو جتوانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔

ان مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ہنگامہ شہیدی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ان پر نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے ، غیر قانونی اجتماعات اور قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزامات میں فردِ جرم عاید کی گئی تھی۔

انھیں 2017ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور کئی ماہ تک غیرملکی میڈیا گروپوں کے لیے کام کرنے کے الزام میں زیر حراست رکھا گیا تھا۔ انھوں نے حکام کے نام کھلے خطوط میں اپنے خلاف عاید کردہ ’’بے بنیاد جھوٹے‘‘ الزامات کی مذمت کی تھی اور اصلاح پسند سیاست دانوں کو بھی نظام مخالفین کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس سال مئی میں ان کے خلاف عدالتی سمن کی ایک کاپی ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی اور اس میں ان پر عدلیہ کی تو ہین کا الزام عاید کیا گیا تھا۔انھیں جب جون میں گرفتار کیا گیا تھا تو تہران کے چیف پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے کہا تھا کہ ’’ وہ ( ہنگامہ شہیدی) روزانہ ہی عدلیہ اور حکام کی مجرمانہ ٹویٹس کے ذریعے بڑی دیدہ دلیری سے توہین کی مرتکب ہورہی تھیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں