ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت نظرانداز ، ترک صدر کی نیکولس مادورو سے ملاقات ،وینزویلا کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کیراکس کے دورے کے موقع پر وینزویلا پر عاید کردہ پابندیوں پر تنقید کی ہے جبکہ میزبان صدر نیکولس مادورو نے وینزویلا کے سونے کی برآمد کے حق کا دفا ع کیا ہے۔

ترک صدر نے وینزویلا کے دارالحکومت میں صدر مادورو کے ساتھ ایک فورم میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیاسی مسائل ایک پوری قوم کو سزا دے کر حل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ہم ان اقدامات کی حمایت نہیں کرتے ہیں جن میں عالمی تجارت کے اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے‘‘۔

رجب طیب ایردوآن نے اپنے ہم منصب نیکولس مادورو کو جدید سائمن بولیوار قرار دیا ہے جو ان کے بہ قول اپنے خلاف تمام حملوں کو شکست دیں گے۔

بعد میں نیکولس مادورو نے ترک صدر کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں امریکا کا نام لیے بغیر اس کی اپنے ملک پر عاید کردہ پابندیوں کی مذمت کی اور کہا کہ وینزویلا پر غیر قانونی پابندیاں عاید کرکے اسے دنیا کو سونے کی فروخت سے روکا جارہا ہے جبکہ اس کو سونے کی فروخت کا حق حاصل ہے۔

امریکا نے گذشتہ ماہ وینزویلا کے حکام اور اس کی سونے کی برآمدات پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے وینزویلا کے حکام پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس نے مادورو حکومت کے ساتھ مالی لین دین پر پابندی عاید کردی تھی اور اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکا سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص پر وینزویلا سے سونے کی ’’دھوکا دہی‘‘ اور بدعنوانی کے ذریعے فروخت میں ملوث افراد اور اداروں کے ساتھ لین دین پر پابندی عاید کردی تھی۔

وینزویلا کو گذشتہ پانچ سال سے معاشی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں خوراک اور ادویہ کی قلت ہوچکی ہے۔ صدر مادورو امریکا کی مسلط کردہ ’’معاشی جنگ‘‘ کو اپنے ملک کے مسائل کا ذمے دار قرار دیتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پیش رو صدر ہوگو شاویز کی متعارف کردہ سوشلسٹ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک معاشی بحران سے دوچار ہوا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔

ترک صدر نے امریکا یا صدر ٹرمپ کا براہ راست حوالہ نہیں دیا ہے۔البتہ انھوں نے کہا کہ ان کے ’’ دوست ‘‘ مادورو کو بعض ممالک کی جانب سے استحصالی حملوں،معاشی قتل اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا سامنا ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے ان کا کہنا تھا کہ وہ وینزویلا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔

ترک صدر نے بعض ممالک اور حلقوں کا نام لیے بغیر ان پر اگست میں صدر مادورو پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ایک وجہ وینزویلا کی جانب سے فلسطین کی بھرپور حمایت ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اوروینزویلا کے درمیان دوطرفہ تجارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔ ترکی نے اس سال براعظم جنوبی امریکا میں واقع اس ملک سے سب سے زیادہ سونا خرید کیا ہے۔ترکی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس نے سال کے پہلے نو ماہ کے دوران میں وینزویلا سے 90 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں