.

اقتصادی اصلاحات سے بجٹ خسارے پر قابو پانے میں مددملی ہے: سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اقتصادی اور ڈھانچا جاتی اصلاحات کے نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں،قومی معیشت سعودی ویژن 2030ء کے مقاصد کے حصول کے لیے پیش رفت کررہی ہے۔اس سے نجی شعبے کی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر ہورہا ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کے مالی سال 2019ء کے میزانیے کے اعلان کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اس سال کے دوران میں بجٹ سے سرکاری مالیاتی انتظام کی کارکردگی میں بہتر ی جاری رہی ہے اور معاشی استحکام اور مالیاتی پائیداری کو فروغ ملا ہے‘‘۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ مالیاتی استحکام اقتصادی ترقی اور شرح نمو میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔گذشتہ دو سال کے دوران میں جن اقتصادی اصلاحات اور اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا ہے،ان سے بجٹ خسارے میں بالترتیب 12.8 فی صد ( 2016ء) ،9.3فی صد (2017ء) اور 4.6 فی صد ( 2018ء ) تک کمی لانے میں مدد ملی ہے اور اسی شرح سے سالانہ اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے ان اصلاحات کے موثر ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی افادیت کا قومی معیشت کی شرح نمو میں اضافے کے اشاریوں سے بھی پتا چلتا ہے۔

انھوں نے بجٹ کی سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیندہ مالی سال کے دوران میں مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 2.69 فی صد کے حساب سے اضافہ متوقع ہے جبکہ 2017ء میں جی ڈی پی کی شرح میں سالانہ 0.9 فی صد اور 2018ء میں 3.2 فی صد اضافہ ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آمدن کے ذرائع کو متنوع بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ غیر تیل آمدن کے ذرائع کو بڑھا کر مالیاتی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی 2014ء میں غیرتیل ذرائع سے آمدن 127 ریال تھی جو 2018ء میں بڑھ کر 287 ریال ہوگئی ہے اور 2019ء میں 313 ارب ریال کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے نئے مالی سال کے میزانیے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس میں سماجی شعبے کے لیے اخراجات کا تخمینہ کل اخراجات کا 42 فی صد لگایا گیا ہے۔انھوں نے انفرااسٹرکچر اور سرکاری خدمات کو ترقی دینے اور جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ مالیاتی انتظام کی کارکردگی مزید مؤثر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔