.

بحرین کا البانیا سے ایرانی سفارت کاروں کی بے دخلی کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین نے البانیا کی حکومت کی جانب سے دو ایرانی سفارت کاروں کو قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے الزام میں ملک بدر کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

جمعہ کے روز بحرینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ البانیا میں ایرانی سفارت کاروں کی غیرقانونی سرگرمیاں دوسرے ملکوں میں ایرانی مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔ بحرین البانیاں میں ایران کی مشکوک اور غیرقانونی سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتااور البانیا سے ایرانی سفارت کارں کی بے دخلی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ امریکا کے اس فیصلے کی امریکا کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز البانیا کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ایڈلیرا پرینڈی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان دونوں سفارت کاروں پر ملک کی سلامتی کے لیے ضرررساں سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شُبہ تھا۔انھوں نے اپنی سفارتی حیثیت کا بھی غلط استعمال کیا ہے‘‘۔

ایران نے اپنے سفارت کاروں کی بے دخلی پر جوابی اقدام کی دھمکی دی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’دونوں سفارت کار ایرانی ایجنٹ تھے اور انھوں نے البانیا میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش کی تھی‘‘۔

خبررساں ایجنسیوں نے البانوی دارالحکومت ترانہ سے بے دخل کیے گئے ایرانی سفیر کا نام غلام حسین محمدنیہ بتایا ہے۔ایک نیوز چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 2016ء میں مسلم اکثریتی ملک البانیا اور اسرائیل کے درمیان فٹ بال ورلڈ کپ کے کوالیفائی راؤنڈ کے ایک میچ کے دورا ن میں دہشت گردی کے حملے کی سازش تیار کی تھی۔اس میچ کے بعد البانیا اور کوسوو میں کم سے کم بیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔