.

یمنی حکومت: اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں پر ایران کی مذمت

عالمی برادری کے کسی ٹھوس اقدام تک ایران اپنی روش سے باز نہیں آئے گا، حوثی ملیشیا آلہ کار کا کردار ادا کررہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی قانونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری نہ کرنے پر ایران کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ جب تک عالمی برادری کوئی ٹھوس اور سخت اقدام نہیں کرتی ،اس وقت تک ایران اپنی اس روش سے باز نہیں آئے گا۔

یمن کی قانونی حکومت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا عالمی برادری اور اس کے فیصلوں کو چیلنج کررہی ہے۔ صوبہ لحج میں العند کے فوجی اڈے پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ ان کی جانب سے الحدیدہ میں جنگ بندی کے لیے سویڈن میں طے شدہ سمجھوتے کی خلاف ورزیوں ہی کا تسلسل ہے۔

یمنی کی وزارتی کونسل کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا عالمی برادری اور اس کے فیصلوں کو مسلسل چیلنج کررہی ہے۔اس کے اقدامات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اس کو یمن میں قیام امن سے کوئی دلچسپی نہیں،اس نے امن کوششوں کو مسترد کرنے کا سلسلہ جاری ر کھا ہوا ہے اور اس کے بجائے وہ اپنے اسپانسر ملک ایران کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

وزارتی کونسل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سویڈن سمجھوتے کے بعد سے ملک میں مہلک حملے تیز کردیے ہیں، وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور ان کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔

کونسل نے حوثیوں کے اس تمام کھیل میں ایران کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہدایت کار کا کردار ادا کررہا ہے اور حوثیوں کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔اس تمام عمل میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی صلاحیتوں کی بھی جانچ کی جارہی ہے اور یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن کی قانونی حکومت اور عرب اتحاد خاموش تماشائی بن کر اس تمام صورت حال کو یوں ہی ملاحظہ نہیں کرتے رہیں گے جبکہ حوثی باغی جنگ کو طول دینے کی کوشش کررہے ہیں۔