یمنی صدر کی یو این مبصرین سے ملاقاتیں، سویڈن معاہدہ سے متعلق انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور ملک میں سیز فائر کی نگرانی کرنے والے عالمی مبصرین کمیشن کے مستعفی سربراہ جنرل پیٹرک کمائرٹ سے ملاقات کی۔

جمعرات کے روز ہونے والی متذکرہ ملاقات میں یمن میں قیام امن کے ضمن میں ہونے والی کوششوں اور اب تک حاصل کئے گئے نتائج پر تبادلہ خیال ہوا۔

یمنی حکومت کے سربراہ منصور ہادی نے بتایا کہ ان کی آئینی حکومت خلیجی اقدام اور اس کے تحت طے پانے والے امور، قومی ڈائیلاگ اور اس ضمن میں یو این قراردادوں بالخصوص 2216 میں بیان کردہ ایشوز پر کاربند ہے۔

انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ترجیجات ایسے متعین کریں کہ اگر ان میں ناکامی ہوئی تو وہ ناکامی سویڈن معاہدے کی مکمل ناکامی شمار ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ یمنی حکومت سویڈن معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے۔

منصور ہادی نے سویڈن معاہدے پر عمل درآمد میں تیزی دکھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فائر بندی اور حوثی باغیوں کی یکے بعد دیگرے سویڈن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ نیز الحدیدہ شہر اور اس میں موجودہ بندرگارہوں سے باغیوں کا انخلاء اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق وعدوں پر عمل درآمد بھی سویڈن معاہدے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملاقات کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یمنی صدر یو این نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کو بھی امن کی راہ میں ڈالی جانے والے رکاوٹوں سے آگاہ کیا جائے جن سے امن کی منزل دور ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں حوثیوں کا غرور اور معاہدوں کا عدم احترام قضیئے کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

جنرل کمائرٹ نے اس موقع پر ان عملی اقدامات کی رپورٹ پیش کی جو بطور عالمی ادارے کے مبصر انہوں نے بحران کے حل کے سلسلے میں اٹھائے۔ نیز انھوں نے اپنی ذمہ داری کی راہ میں درپیش چیلنجوں کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انھوں نے کہا اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درآمد کے لئے مبصرین پہنچنے کے بعد ان چیلنجز پر قابو پا لیا جائے گا۔

اس موقع پر یمنی ایوان صدارت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ العلیمی اور یو این مبصر مشن کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں