ریاست جموں وکشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بم حملہ، 44 اہلکار ہلاک

مزاحمتی گروپ جیشِ محمد نے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے فدائی کار بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے چوالیس اہلکار ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ میں مرکزی شاہراہ پر پولیس فورس کے 70 سے زیادہ گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو سری نگر سے 20 کلومیٹر دور قافلے میں شامل ایک بس کے ساتھ ٹکرا کر دھماکے سے اڑایا ہے۔اس میں 350 کلو گرام بارود لدا ہوا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کئی میل دور تک سنی گئی ہے۔

جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار گروپ جیشِ محمد نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھارت کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عادل احمد ڈار المعروف وقاص کمانڈو نامی بمبار نے یہ خودکش بم حملہ کیا ہے۔وہ ریاست کے علاقے کاکا پورہ کا رہنے والا تھا اور ا س نے گذشتہ سال ہی جیش محمد میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل وجے کمار نےبھارت کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا ہے کہ قافلے میں قریباً ڈھائی ہزار اہلکار سفر کررہے تھے ۔اس وقت جائے وقوعہ پر سینیر افسر موجود ہیں اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے جبکہ زخمیوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔حکام نے بتایا ہے کہ تیرہ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے اور انھیں سری نگر میں ایک فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سری نگر اور جموں کے درمیان مرکزی شاہراہ پر سفر کے دوران میں گوری پورہ کے علاقے میں بم دھماکا ہوا ہے اور سنٹرل ریزور پولیس فورس کے قافلے میں شامل ایک بس دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ اس بس میں کل انتالیس اہلکار سوار تھے۔اس کے ساتھ نیلی رنگ کی دوسری بسوں کو بھی آگ لگ گئی اور ان سے دھواں بلند ہورہا تھا۔

اے این آئی کے مطابق سر ی نگر اور جموں کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ خراب موسم کی وجہ سے گذشتہ دو روز سے بند تھی ۔اس لیے اس قافلے میں اتنی زیادہ تعداد میں اہلکار بیک وقت سفر کررہے تھے۔ یہ قافلہ ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں سے ساڑھے تین بجے سہ پہر سری نگر کے لیے روانہ ہوا تھا۔

کشمیر میں ستمبر 2016ء کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز پر یہ سب سے تباہ کن حملہ ہے۔ تب چار مسلح افراد نے اڑی میں واقع بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں انیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ بھارت نے ریاست جموں وکشمیر میں کشمیریوں کی مسلح مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لیے سات لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔ان میں پانچ لاکھ فوجی ا ور دو لاکھ سے زیادہ نیم فوجی سکیورٹی فورسز کے دستے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں